ریاستی خطاب میں ایران کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی نشاندہی کی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کانگریس سے اپنے ریاستی خطاب میں ایران پر ممکنہ حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گردی کے سرپرست کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے عسکریت پسند گروہوں کی حمایت، مظاہرین کی ہلاکتوں اور ملک کے میزائل اور جوہری پروگراموں کو خطے اور امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا۔
فوجی تعیناتی اور جوہری تنازعہ
خطاب سے قبل مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی دستوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاریوں نے ماحول کو کشیدہ بنا دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر چکا ہے اور ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد ہی امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ اس کی جانب سے سڑک کنارے بم دھماکے کیے گئے ہیں جن میں امریکی فوجی اہلکار اور شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران شمالی امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والا میزائل تیار کر رہا ہے۔
معاشی کارکردگی پر زور
اپنے تاریخی طویل خطاب کے پہلے گھنٹے میں صدر ٹرمپ نے معیشت پر توجہ مرکوز رکھی اور اپنی معاشی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مہنگائی پر قابو پایا، اسٹاک مارکیٹ کو ریکارڈ بلندیوں تک پہنچایا، ٹیکسوں میں کٹوتی کی اور ادویات کی قیمتیں کم کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہماری قوم واپس آ گئی ہے – پہلے سے کہیں بڑی، بہتر، امیر اور مضبوط۔” تاہم رائے شماریوں سے پتہ چلتا ہے کہ صرف 36 فیصد امریکی ان کی معاشی پالیسیوں سے مطمئن ہیں۔
سیاسی کشیدگی اور احتجاج
خطاب کے دوران سیاسی کشیدگی بھی واضح رہی جب صدر ٹرمپ نے تارکین وطن کے خلاف اپنی پالیسیوں کا ذکر کیا تو کئی ڈیموکریٹک ارکان نے احتجاج کیا۔ ڈیموکریٹک رکن کانگریس الہان عمر نے چیخ کر کہا “آپ نے امریکیوں کو مارا ہے!”
ڈیموکریٹک رکن ال گرین کو دوسرے سال مسلسل ہال سے باہر نکال دیا گیا جب انہوں نے صدر ٹرمپ کے سامنے ایک بینر لہرایا جس پر لکھا تھا “سیاہ فام لوگ بندر نہیں ہیں۔” یہ پیغام صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو کا حوالہ تھا۔
ریکارڈ طویل خطاب
صدر ٹرمپ کا یہ خطاب رات 11 بجے کے قریب اختتام پذیر ہوا جو ایک گھنٹہ 47 منٹ تک جاری رہا۔ یہ کانگریس سے کیے جانے والے صدارتی خطاب کا اب تک کا طویل ترین ریکارڈ ہے جسے انہوں نے خود ہی گزشتہ سال قائم کیا تھا۔
اگرچہ انہوں نے اپنی تقریر کے بیشتر حصے میں ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کا جواز پیش کیا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح سفارتی حل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “میں کبھی بھی دنیا کے نمبر ایک دہشت گردی کے سرپرست کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا۔”
