منیاب میں لڑکیوں کے اسکول کو نشانہ بنایا گیا
ایرانی خبررساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق، جنوبی ایران کے شہر منیاب میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر اسرائیلی میزائل حملے میں 63 افراد ہلاک اور 92 زخمی ہو گئے ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملبے تلاب سے مزید طالبات کے نکالے جانے کا عمل جاری ہے۔ یہ حملہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی وسیع فوجی کارروائی کے پس منظر میں ہوا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور تشویش
اس حملے کے بعد بین الاقوامی ردعمل سامنے آئے ہیں۔
- بھارت نے تمام فریقین سے پرہیز کی اپیل کرتے ہوئے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کا کہا۔
- چین نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور مشرق وسطیٰ میں استحکام برقرار رکھنے پر زور دیا۔
- ترکی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری دشمنی بند کرنے کی اپیل کی۔
- یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امریکہ کی “عزم” کی تعریف کی۔
فوجی کارروائی کی وسعت
اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زامیر نے اپنے فوجیوں سے خطاب میں کہا کہ موجودہ آپریشن “گرجنے والے شیر” کا آغاز ہوا ہے جو گزشتہ جون کے آپریشن سے “کہیں زیادہ وسیع، پیچیدہ اور مشکل” ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیاری مختصر مگر انتہائی جامع تھی۔
خطے میں صورت حال کشیدہ
ایرانی کریسنٹ نے بتایا ہے کہ ملک کی 31 میں سے 20 سے زائد صوبے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ عمان، قطر اور سعودی عرب نے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی واپسی پر زور دیا ہے۔ عراق نے اپنے فضائی اور زمینی علاقے کو حملوں کے لیے استعمال کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
دیگر اہم واقعات
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ تمام مقامات جو اس کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہوں گے، انہیں جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔ اس دوران اسرائیل میں نئے ہوائی حملے کی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ امریکی سفارتخانے نے بحرین میں عارضی بندش کا اعلان کیا ہے۔
یورپی رہنماؤں نے ایران کی علاقائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے غیر جانبدار فوجی کارروائیوں سے باز رہنے کی اپیل کی ہے۔ فرانسیسی شہری جو ایران میں پھنسے ہوئے تھے، وہ تہران میں فرانسیسی سفارتخانے میں محفوظ ہیں۔
