خطرناک چھاپے کا انکشاف
دوحہ: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جب قطر کے فضائی دفاعی نظام نے دو ایرانی سو-24 بمبار طیاروں کو اپنے فضائی حدود میں گھسنے کے بعد تباہ کر دیا۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارے خطے میں امریکہ کی سب سے بڑی فوجی تنصیب العدید ائیر بیس کو نشانہ بنانے کے لیے آ رہے تھے، جہاں تقریباً 10,000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔
حادثے کی تفصیلات
اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح ایران سے اڑان بھرنے والے یہ دو طیارے قطر کے فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ قطر کی فضائیہ نے انہیں ریڈار پر بھانپتے ہی فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ابتدائی طور پر ریڈیو کے ذریعے انہیں خبردار کیا گیا لیکن جواب نہ ملنے پر ایک قطر ایف-15 لڑاکا طیارہ تعاقب کے لیے بھیجا گیا۔
ایرانی طیارے ریڈار سے بچنے کے لیے محض 80 فٹ (25 میٹر) کی بلندی پر پرواز کر رہے تھے۔ سی این این کے حوالے سے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ “وقت کی کمی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ان طیاروں کو دشمن قرار دے دیا گیا”۔ قطر ایف-15 نے دونوں بمبار طیاروں کو قطر کے علاقائی پانیوں میں گرنے پر مجبور کر دیا۔
المدید ائیر بیس: ایک اہم ہدف
دوحہ سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع العدید ائیر بیس نہ صرف امریکہ بلکہ بین الاقوامی اتحاد کی مشرق وسطیٰ میں اہم ترین فوجی چوکی ہے۔ یہاں امریکی، برطانوی اور دیگر اتحادی فوجی تعینات ہیں۔ اس بیس میں خطے کی سب سے لمبی رن وے ہے جو ہر قسم کے فوجی طیاروں کی آمد و رفت کے لیے موزوں ہے۔
یہ بیس امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے جو پورے خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایرانی طیارے اس بیس سے محض “دو منٹ” کی پروازی دوری پر تھے جب انہیں تباہ کیا گیا۔
بین الاقوامی ردعمل کا انتظار
سی این این کے مطابق ایرانی طیارے ہدایت شدہ بم اور دیگر اسلحہ سے لیس تھے۔ اگر یہ حملہ کامیاب ہو جاتا تو ہزاروں امریکی فوجی ہلاک ہو سکتے تھے۔ اس واقعے نے خطے میں موجودہ جنگ کے پھیلاؤ کے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ممکنہ ردعمل کی جانب توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
قطری حکام نے اب تک اس واقعے پر تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، جبکہ ایرانی ذرائع نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں ایک نئی اور خطرناک جہت کا اضافہ کرتا ہے۔
