عالمی تیل کی رسد کے لیے اہم گزرگاہ بند ہونے سے خدشات
تیل کی عالمی قیمتوں میں منگل کے روز مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت بیانات اور ہرمز آبنائے کو فوری طور پر کھولنے کی وارننگ بتائی جارہی ہے۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی ترسیل کا 20 فیصد حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
ٹرمپ کی آخری وارننگ اور ایران کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے ایران کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق منگل رات 8 بجے تک ہرمز آبنائے کھولنے کی آخری ڈیڈ لائن دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے ان کی شرط ماننے سے انکار کیا تو وہ “جہنم” برسائیں گے اور مزید کارروائی کریں گے۔ جواباً ایران نے امریکی ثالثی میں پیش کیے گئے جنگ بندی کے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ضروری ہے اور آبنائے کو کھولنے کے دباؤ کو رد کیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی تفصیل
بینچ مارک برینٹ کرڈ فیوچرز 57 سینٹس (0.5 فیصد) بڑھ کر 110.34 ڈالر فی بیرل ہو گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کرڈ 1.26 ڈالر (1.1 فیصد) اضافے کے ساتھ 113.67 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔
ماہرین کا تجزیہ
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کا کہنا تھا کہ “ٹرمپ کی آخری ڈیڈ لائن کے قریب پہنچتے ہوئے تیل کی مارکیٹس میں بنیادی عوامل سے زیادہ گھڑی دیکھنے کا رجحان ہے۔ جنگ بندی کا ممکنہ معاہدہ کچھ توازن فراہم کر سکتا ہے لیکن ہرمز آبنائے اور تباہ شدہ توانائی سہولیات سے متعلق مسلسل رسد کے خدشات قیمتوں کو سہارا دے رہے ہیں۔”
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
- ایران کے انقلابی گارڈز نے دو قطری تیل گیس کے ٹینکرز کو روک کر انہیں بغیر وضاحت کے مقام پر رکنے کا حکم دیا۔
- شام کے دارالحکومت دمشق میں دھماکے سنائی دیے جو اسرائیلی دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی میزائلوں کو روکنے کے نتیجے میں ہوئے۔
- سعودی عرب نے اعلان کیا کہ اس نے مشرقی خطے کی طرف داغے گئے سات بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا جن کے ملبے کے ٹکڑے توانائی سہولیات کے قریب گرے۔
عالمی رسد پر دباؤ
اس بحران نے عالمی تیل کی مارکیٹس پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ سعودی آرامکو نے ایشیا کے لیے مئی کی ترسیل کے عرب لائٹ کرڈ کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ کرتے ہوئے اسے اوسط اوماں/دبئی قیمت سے 19.50 ڈالر فی بیرل زیادہ مقرر کیا ہے۔
دیگر عوامل
روس نے اطلاع دی ہے کہ یوکرینی ڈرونز نے کیسپین پائپ لائن کنسورشیم کے بلیک سی ٹرمینل پر حملہ کیا جو عالمی تیل کی رسد کا 1.5 فیصد سنبھالتا ہے۔ اوپیک پلس نے مئی میں تیل کی پیداوار میں 206,000 بیرل فی دن کا اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے لیکن یہ اضافہ زیادہ تر علامتی ہوگا کیونکہ اہم رکن ممالک آبنائے بند ہونے کی وجہ سے برآمدات نہیں بڑھا سکتے۔
