وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا
اسلام آباد/پشاور: وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان بدھ کو کامیاب مذاکرات کے بعد صوبے میں بند پڑنے والے سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی بحال کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس صورت حال کے دو دن بعد سامنے آئی جب گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے نایاب سیاسی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر گیس کی فراہمی معطل کرنے پر تنقید کی تھی اور سی این جی سیکٹر کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔
گورنر کنڈی کا مثبت ردعمل
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گیس کی فراہمی کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے صوبے کے توانائی کے خدشات کو دور کرنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ گورنر نے صوبائی حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ آواز اٹھانے کو سراہا اور کہا کہ یہ کامیابی اجتماعی کوششوں کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔
35 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی منظوری
وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ معظم اسلم نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کو 35 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی بحال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی وفاقی حکام سے مسلسل رابطہ کاری کی بدولت یہ مسئلہ حل ہوا۔ انہوں نے گورنر کنڈی اور قائد حزب اختلاف ڈاکٹر عباداللہ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس حساس معاملے پر وزیر اعلیٰ کا ساتھ دیا۔
صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک آپریشن
صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق گیس کی فراہمی بحال ہونے کے بعد صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے۔ یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک، رانا ثناء اللہ، گورنر کنڈی، ڈاکٹر عباد، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل شریک ہوئے۔
گندم اور آٹے کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت
ایک اور اہم پیش رفت میں وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ دوسرے صوبوں خصوصاً خیبر پختونخوا کو گندم اور آٹے کی ترسیل میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ نے کے پی حکومت کو ایک واٹس ایپ نمبر فراہم کیا ہے جس پر آٹا اور گندم کے ڈیلرز پنجاب سے ترسیل کے دوران کسی بھی قسم کی رکاوٹ کی ویڈیوز اور تصاویر بھیج سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی زیر صدارت چاروں صوبوں کے فوڈ سیکرٹریز کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
پنجاب پر آئینی پابندی کا ذکر
اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بارہا وفاقی حکومت اور پنجاب کے چیف سیکرٹری سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندیاں ہٹانے کی درخواست کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت، اپوزیشن اور گورنر اس معاملے پر متحد ہیں۔ پنجاب کے فوڈ سیکرٹری کے اس دعوے پر کہ کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، کے پی چیف سیکرٹری نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی پابندی نہیں تو پھر خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتیں کیوں بڑھ گئی ہیں۔ اس پر وفاقی وزیر نے تمام رکاوٹیں فوری دور کرنے کی ہدایت کی۔
بلوچستان سے موازنہ اور آئینی موقف
مشیر خزانہ معظم اسلم نے بتایا کہ اجلاس میں پنجاب حکومت کو آگاہ کیا گیا کہ آئینی طور پر وہ صوبوں کے درمیان گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندی نہیں لگا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں 100 کلو گرام آٹے کی بوری کی قیمت خیبر پختونخوا سے کم ہے حالانکہ وہ صوبہ جغرافیائی طور پر پنجاب سے زیادہ دور ہے۔ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ رکاوٹیں ہٹنے کے بعد خیبر پختونخوا کو گندم اور آٹے کی بلاتعطل ترسیل دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
