سنگاپور/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے پرامید تبصروں کے بعد بدھ کو دو چینی ٹینکرز تقریباً 40 لاکھ بیرل خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے باہر نکل گئے، جس سے یہ امید بڑھی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی جلد حل ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ جنگ “بہت جلد” ختم ہو جائے گی، جب کہ نائب صدر وینس نے تہران کے ساتھ دشمنی ختم کرنے کے معاہدے کے لیے ہونے والی بات چیت میں پیش رفت کا عندیہ دیا۔ وینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا، “ہم یہاں کافی اچھی پوزیشن میں ہیں۔”
ٹرمپ نے اپنا یہ بیان اس وقت دیا جب انہوں نے ایک روز قبل کہا تھا کہ انہوں نے تہران کی جانب سے تنازعہ ختم کرنے کی ایک نئی تجویز کے بعد دوبارہ حملے شروع کرنے کا منصوبہ ملتوی کر دیا ہے۔ انہوں نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں کو بتایا، “میں آج حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھا۔” ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے رہنما معاہدے کے لیے التجا کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے یہ بھی دھمکی دی کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو آنے والے دنوں میں امریکہ نیا حملہ کرے گا۔
عالمی توانائی کی رسد پر بدترین خلل
امریکہ تقریباً تین ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ٹرمپ پر اندرونی طور پر شدید سیاسی دباؤ ہے کہ وہ ایسا معاہدہ کریں جس سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جائے، جو عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیاء کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں اور نومبر میں کانگریس کے انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اس تنازعے نے عالمی توانائی کی ترسیل میں بدترین خلل ڈالا ہے، جس سے سینکڑوں ٹینکر خلیج سے باہر نہیں نکل پا رہے اور پورے خطے میں توانائی اور جہاز رانی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
مذاکرات کی مشکلات اور تہران کی شرائط
نائب صدر وینس نے ایک بریفنگ میں ایران کی بکھری ہوئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی مشکلات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا، “کبھی کبھی یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہوتا کہ ان کی ٹیم کی مذاکراتی پوزیشن کیا ہے،” اس لیے امریکہ اپنی سرخ لکیریں واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی تازہ امن تجویز میں تمام محاذوں بشمول لبنان پر دشمنی کا خاتمہ، ایران کے قریب سے امریکی افواج کا انخلا، اور امریکی اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی کا ازالہ شامل ہے۔ ایرانی ڈپٹی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تہران نے پابندیاں اٹھانے، منجمد فنڈز کی رہائی اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ یہ شرائط ایران کی پچھلی پیشکش سے زیادہ مختلف نہیں لگتیں، جسے ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے “کچرا” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
جنگ بندی برقرار، عالمی منڈی پر اثر
امریکی اسرائیلی بمباری نے ایران میں جنگ بندی سے قبل ہزاروں افراد کو ہلاک کیا تھا، جبکہ ایران کے حملوں سے اسرائیل اور ہمسایہ خلیجی ریاستوں میں درجنوں افراد مارے گئے۔ جنگ بندی زیادہ تر برقرار ہے، تاہم حال ہی میں عراق سے سعودی عرب اور کویت کی جانب ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور خلیج سے ملنے والے مثبت اشاروں پر تیل کی قیمتوں میں نرمی آئی، برینٹ کروڈ 110.16 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح تک گر گیا، بعد میں اس نے اپنے زیادہ تر نقصانات کی تلافی کر لی۔ فوجیتومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار توشیتاکا تزاوا نے کہا، “سرمایہ کار یہ جاننے کے خواہشمند ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران واقعی کوئی مشترکہ بنیاد تلاش کر کے امن معاہدہ کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب امریکی مؤقف روزانہ بدل رہا ہے۔”
