اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی ایک مقامی عدالت نے سوشل میڈیا انفلوئنسر سنا یوسف کے قتل سے منسلک اسلحہ کے ایک علیحدہ مقدمے میں مجرم قاتل عمر حیات کو بدھ کے روز دو سال قید کی سزا سنائی۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے پاکستان آرمز آرڈیننس کی دفعہ 13 کے تحت یہ سزا سنائی۔ عدالت نے مجرم پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا اور حکم دیا کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے ایک ماہ کی اضافی قید بھگتنی ہوگی۔
آج کی سزا کے بعد عمر حیات کو مجموعی طور پر 23 سال قید کی سزا ہو چکی ہے جبکہ مجموعی جرمانے 26 لاکھ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔
سزائے موت کے اگلے روز نیا فیصلہ
یہ سزا گزشتہ روز اسی عدالت کی جانب سے مقتولہ ٹک ٹاکر سنا یوسف کے قتل کے مرکزی ملزم عمر حیات کو سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانہ سنائے جانے کے محض ایک روز بعد آئی ہے۔
دو صفحات پر مشتمل مختصر فیصلے میں جج مجوکا نے متعدد دیگر دفعات کے تحت بھی حیات کو سزائیں اور جرمانے سنائے۔ فیصلے کے مطابق، مجرم کو دفعہ 392 کے تحت 10 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔
عدالت نے مزید دفعہ 499 کے تحت بھی مجرم کو 10 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ سنایا، جبکہ دفعہ 411 کے تحت ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ مجموعی طور پر عدالت نے حیات کو 21 سال قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
سنا یوسف کا قتل
سنا یوسف، جو اپنی موت سے ایک ہفتہ قبل 17 سال کی ہوئی تھیں اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دس لاکھ سے زائد فالوورز رکھتی تھیں، 2 جون 2025 کو اسلام آباد میں اپنے گھر میں قتل کر دی گئی تھیں۔
پاکستان میں بے حد مقبول پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ان کے 8 لاکھ سے زیادہ فالوورز تھے، جہاں وہ لب سنک ویڈیوز، جلد کی دیکھ بھال کے ٹوٹکے اور خوبصورتی کی مصنوعات کے لیے پروموشنل مواد پوسٹ کیا کرتی تھیں۔
