امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کی بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان توقعات کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ڈیل کے لیے “جلد بازی” نہ کریں، حالانکہ تہران اور واشنگٹن دونوں نے پیش رفت کے اشارے دیے تھے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، “میں نے اپنے نمائندوں کو مطلع کر دیا ہے کہ وہ معاہدے میں جلد بازی نہ کریں، وقت ہمارے ساتھ ہے۔” انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ “ناکہ بندی اس وقت تک پوری قوت سے نافذ رہے گی جب تک کوئی معاہدہ طے پا کر، تصدیق شدہ اور دستخط شدہ نہیں ہو جاتا۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل سے جنگ بندی جاری ہے اور ثالث ایک طے شدہ تصفیے کے لیے کوشاں ہیں۔ خطے میں کشیدگی اس وقت بھڑک اٹھی تھی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پورے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
اہم شقیں تاحال “حل طلب”
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے اتوار کو اطلاع دی کہ اس کی معلومات کے مطابق ممکنہ معاہدے کی اہم شقیں “اس وقت بھی حل طلب” ہیں، جن میں منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کو علاقائی حمایت حاصل ہو گئی ہے لیکن جوہری معاہدہ “72 گھنٹوں میں کسی رومال کی پشت پر” نہیں ہو سکتا۔p>
روبیو نے کہا، “اس وقت، خطے کے سات یا آٹھ ممالک اس نقطہ نظر کی توثیق کر رہے ہیں، اور ہم اس نقطہ نظر پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہں۔” اس سے قبل روبیو نے کہا تھا کہ علاقائی جنگ کے خاتمے کے لیے اتوار تک کوئی سودا طے پا سکتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے ایک بار پھر توقعات کو محدود کرتے ہوئے کہا، “اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہو گا،” اور مزید کہا کہ “یہ ابھی تک مکمل طور پر طے بھی نہیں ہوا ہے۔”
ایرانی حکام نے ایک مسودہ معاہدے کے وجود کی تصدیق کی ہے لیکن اس بات پر زور دیا کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت، کسی بھی معاہدے کے بعد 60 دنوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ تہران “اب بھی دنیا کو یقین دلانے کے لیے تیار ہے کہ ہم جوہری ہتھیاروں کے خواہاں نہیں ہیں،” لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ آیا یہ وعدہ معاہدے کے متن کا حصہ بنے گا۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، “مذاکرات کی مدت کے دوران تیل، گیس، پیٹرو کیمیکلز اور ان کے مشتقات پر پابندیاں عارضی طور پر ہٹا دی جائیں گی تاکہ ایران اپنی مصنوعات آزادانہ طور پر فروخت کر سکے۔”
ٹرمپ کے اتحادی، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے اور صدر نے اس بات پر اتفاق کیا کہ “ایران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔”>
علاقائی رہنماؤں کی شمولیت
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن اور بحرین کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ترکی اور پاکستان کے نمائندوں نے ہفتے کو ٹرمپ کے ساتھ ایک کال میں معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان، جس نے اپریل میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان تاریخی براہ راست مذاکرات کی ثالثی کی تھی، “بہت جلد” مذاکرات کے ایک اور دور کی میزبانی کی امید رکھتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، جنہوں نے جمعہ اور ہفتہ کو تہران کا دورہ کیا، نے بھی اس کال میں شرکت کی، جس نے “خطے میں دیرپا امن لانے کے لیے جاری امن کوششوں کو آگے بڑھانے کا ایک مفید موقع فراہم کیا۔”
