مشرق وسطیٰ کا بحران: معاہدے کی امیدوں پر پانی پھر گیا
دنیا بھر کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور سفارتی محاذ پر بے چینی کے درمیان، امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک بار پھر تلخی آ گئی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپ میں جلد معاہدے پر دستخط کی پیشگوئی کے چند گھنٹوں بعد ہی ایران نے ان اطلاعات کو محض قیاس آرائی قرار دے دیا۔ تہران کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی ڈیل طے نہیںوئی، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج کا آپریشن: آئل ٹینکر روک لیا گیا
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، ایرانی مسلح افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو پیشگی رابطہ کاری کے بغیر گزرنے سے روک دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب مقامی ذرائع نے سیرک کے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی افواج نے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے دو ایرانی حملہ آور ڈرونز کو مار گرایا، تاہم آبنائے میں ٹریفک کی روانی جاری ہے۔
حزب اللہ کے 24 حملے: جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز کو نشانہ بنایا گیا
لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان اور وادی بقاع میں اسرائیلیورسز اور فوجی تنصیبات پر 24 ڈرون، میزائل اور راکٹ حملے کیے۔ بیان کے مطابق، ان حملوں میں خاص طور پر الرجمان کے علاقے میں اسرائیلی فوجیوں اور بکتر بند گاڑیوں کے اجتماعات کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک لاجسٹک قافلے پر حملے میں ملائیشیا کے دو امن دستے معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
عالمی ردعمل اور اقتصادی اثرات
>صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مصر نے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے دستیاب موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ دوسری جانب، برطانیہ کی معیشت اپریل میں 0.1 فیصد سکڑ گئی، جس کی بڑی وجہ ایران جنگ کے باعث خلیجی کھیلوں کے مقابلوں کی منسوخی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے ایران پر مزید حملے منسوخ کرنے کے اعلان کے بعد جاپان اور جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں نکئی انڈیکس 3.5 فیصد اور کوسپی انڈیکس 759 فیصد چھلانگ لگا کر بند ہوا۔
تاخیر کا شکار آخری رسومات اور سفارتی معمہ
ادھر تہران کے میئر نے اعلان کیا ہے کہیکی اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والےہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی سرکاری تدفین کو جون کے آخر یا جولائی کے اوائل تک ملتوی کر دیا گیا ہے، جس میں 2 کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تاخیر اندرونی سیاسی انتظامات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث کی گئی ہے، جبکہ ایران نے بحر ہند میں امریکی کارروائیوں کو ’سرکاری بحری قزاقی‘ قرار دے کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
