واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک امن معاہدہ رواں ہفتے کے آخر تک طے پا سکتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ یہ اعلان انہوں نے ایران پر منصوبہ بند فوجی حملے منسوخ کرنے کے بعد کیا۔
دوسری جانب ایران نے اس معاملے پر محتاط لہجہ اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کسی معاہدے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ مذاکراتی متن کے بڑے حصے طے پا چکے ہیں لیکن ایران اپنی سرخ لکیروں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
بقائی نے کہا، “ہم اس معاملے پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جس کا متعلقہ فیصلہ ساز ادارے جائزہ لے رہے ہیں۔”
نائب صدر جے ڈی وینس یورپ میں دستخط کر سکتے ہیں
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، “ہم نے ابھی ایران کے ساتھ جنگ کے ایک شاندار تصفیے کی بنیاد رکھی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی معاہدے پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز کو باضابطہ طور پر کھول دیا جائے گا، جو ممکنہ طور پر اس ہفتے کے آخر میں یورپ میں ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ کی جانب سے اس پر دستخط کر سکتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے، تو ٹرمپ نے جواب دیا: “میری سمجھ کے مطابق جواب ہاں میں ہے۔”
ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ایران پر زور
ٹرمپ کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے مذاکرات میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے ایران پر منصوبہ بند فوجی حملے منسوخ کر دیے۔ اس خبر پر امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا، “ہمارے پاس ایک ایسا معاہدہ ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جو اس سب کچھ سے گزرنے کا اصل مقصد تھا۔ لہٰذا یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔” ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی تردید کرتا ہے۔
- ایران کے مطالبات: بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ، اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی، اور آبنائے ہرمز پر اس کے کنٹرول کو تسلیم کیا جانا۔
- جاری کشیدگی: دونوں فریقوں نے اس ہفتے ایک دوسرے پر حملے کیے ہیں، جس سے اپریل میں طے پانے والی عارضی جنگ بندی کمزور پڑ گئی ہے۔
علاقائی اور ملکی دباؤ
تین ماہ سے جاری یہ جنگ، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسریل کے ایران پر فضائی حملوں سے شروع ہوئی، اب تک ہزاروں جانیں لے چکی ہے اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی ہے۔ یہ تنازع وائٹ ہاؤس کے لیے سیاسی طور پر درد سر بنا ہوا ہے، کیونکہ پٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر عوام کے غصے کے باعث ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس معاہدے کو خطے کے دیگر ممالک بشمول اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، پاکستان اور دیگر نے منظوری دی ہے۔ تاہم، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ایران کے ساتھ مفاہمت کی اس یادداشت میں فریق نہیں ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ جب تک یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا، بحری ناکہ بندی پوری طرح برقرار رہے گی۔
