اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے اتوار کو وفاقی بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت پر معاشی حقائق سے آنکھیں چرانے، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے اور بڑھتی ہوئی غربت سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔ قائدین نے متفقہ طور پر کہا کہ یہ بجٹ عوامی مسائل کے حل کی بجائے محض اعداد و شمار کی مشق ہے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اسلام آباد میں بجٹ پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ 280 روپے یومیہ کمانے والا شخص خط غربت سے نیچے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، “وہ [حکمران] خود کو فریب دے رہے ہی۔” علامہ عباس کا کہنا تھا کہ حکمران اپنی آنکھوں سے حقائق دیکھنے کو تیار نہیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔
عوام غربت کی چکی میں پِس رہی ہے
>علامہ راجہ ناصر عباس نے معاشی صورت حال کو گھریلو بجٹ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی خاندان کے اخراجات آمدن سے بڑھ جائیں تو وہ قرض کے بوجھ تلے دب کر اثاثے فروخت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا، “پاکستان کی آمدنی اس کے اخراجات سے کم ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
انہوں نے موجودہ نظام کے تحت ہونے والے ممکنہ انتخابات کو “بدترین” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ غربت میں اضافہ معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا، “معاشی ترقی کا اصل پیمانہ عوام کی زندگیوں میں بہتری ہے۔” کھوکھر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں تو شہریوں کو سہولیات بھی فراہم کی جانی چاہئیں، بصورت دیگر ٹیکس کا نظام موثر نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے میں ناکام رہی ہے اور عوامی مسائل حل کیے بغیر بجٹ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
بجٹ معاشی بحران کی علامت ہے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے بجٹ کو پاکستان کے لیے “معاشی ایمرجنسی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت شدید بحران اور قرضوں کے بوجھ تلے پھنسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں اور قرضوں میں اضافہ ملک کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
راجہ نے نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت سود کی ادائیگیوں میں جکڑی ہوئی ہے اور قرضوں کے ذریعے نظام چلانا پائیدار حل نہیں ہے۔ انہوں نے صحت اور تعلیم پر اخراجات میں پسماندگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گزشتہ چار سال پاکستان کی معیشت کے لیے بدترین رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی اخراجات ترقیاتی اخراجات سے بڑھ چکے ہیں جبکہ پنشن کے اخراجات حکومت چلانے کی لاگت سے تجاوز کر گئے ہیں۔
عباسی نے خبردار کیا، “سود اور قرضوں کی ادائیگی آمدنی سے بڑھنے لگی ہے۔” انہوں نے کہا کہ اضافی ٹیکسوں نے عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالا ہے اور حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے نئے قرضے لے رہی ہے۔ ان کے بقول بجٹ میں ریلیف کے دعوے حقیقت سے دور ہیں اور عام پاکستانی بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
بجٹ میں صرف اعداد بدلے گئے ہیں
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں “ظالمانہ ٹیکس نظام” ہے اور عام آدمی 60 فیصد ٹیکس ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا، “عوام کو بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں ملتا؛ صرف نمبر تبدیل کیے جاتے ہیں۔”
انہوں نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، آزاد بجلی پیدا کرنے والوں (آئی پی پیز) کی استعداد کی ادائیگیاں ختم کرنے، ایم این ایز کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈز ختم کرنے اور سرکاری گاڑیوں کی انجن کیپیسٹی 1300cc سے زیادہ نہ رکھنے ک مطالبہ کیا۔ حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت خود آئی ایم ایف کے دباؤ کا اعتراف کرتی ہے۔
حکومت کا مؤقف: بجٹ ریلیف پر مبنی ہے
دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اگلے مالی سال کے بجٹ کو “ریلیف پر مبنی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کو ماہرین معاشیات اور رائے دہندگان سمیت مختلف حلقوں سے مثبت ردعمل ملا ہے۔
تارڑ نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کو خاطر خواہ ریلیف دیا گیا ہے، 50 ہزار روپے تک ماہانہ آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں اور 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے کے درمیان آمدن پر صرف ایک فیصد ٹیکس عائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلسل کوششوں سے ملک معاشی استحکام حاصل کر چکا ہے اور معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
