مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی نے اپنے پر پھیلا لیے ہیں۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تو دوسری جانب لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے نے صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس حملے کا جواب دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی بے جواب نہیں رہے گی۔
مذاکرات کی راہ پر گامزن ایران
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین سلامتی کونسل نے “بات چیت کی راہ” پر چلنے کی حمایت کی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سخت گیر حلقوں کی جانب سے امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ایرانی ٹیم پر تنقید کی جا رہی تھی۔ صدارتی ویب سائٹ کے مطابق، پزشکیان نے میڈیا ایگزیکٹوز سے ملاقات میں کہا، “سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے نتیجہ نکالا ہے کہ بات چیت کا راستہ اپنایا جانا چاہیے۔”
دریں اثنا، ایران اپنی “مطلوبہ شقوں” کو قطر کی ثالثی ٹیم کے ذریعے امریکہ تک پہنچا رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، فریقین کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچا جا سکا۔
بیروت حملہ: “یہ جرم بے جواب نہیں رہے گا”بیروت کے جنوبی مضافات میں اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کی مشترکہ عسکری کمانڈ کے نائب کمانڈر محمد جعفر اسدی نے کہا کہ لبنان کے دارالحکومت میں اسرائیلی “جرائم” کا جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے بے جواب نہیں رہیں گے، جس سے خطے میں فوری کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی اس حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ یا تو اپنے وعدے پورے کرنے کی خواہش نہیں رکھتا یا اس میں صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ اگر وعدے پورے نہیں کیے جا سکتے تو موجودہ راستے پر چلتے رہنا ناممکن ہو جائے گا۔
ٹرمپ کا اسرائیل کو پیغام: “مزید حملے نہ ہوں”
سابق امریکی صدر براک اوباما نے اس موقع پر کہا کہ یہ توقع رکھنا غیر حقیقی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ کوئی بھی معادہ ان کے اپنے گیارہ سال پرانے جوہری معاہدے پر “نمایاں بہتری” ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ جنگ سے بچنے کے لی ضروری ہے کہ ایسا معاہدہ کیا جائے جو واشنگٹن کی تمام شرائط پر پورا نہ اترتا ہو۔
ادھر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بیروت پر حملہ “نہیں ہونا چاہیے تھا”۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، “اسرائیل کو خطرات کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن جس حملے کا اس نے جواب دیا وہ بہت چھوٹا اور بے معنی تھا، کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا، اور اسے اس اہم عمل میں خلل نہیں ڈالنا چاہی۔”
عالمی ردعمل اور فوجی تیاری
اسرائیلی فوج نے بیروت پر حملے کے بعد کہا ہے کہ وہ “آنے والے گھنٹوں میں” ممکنہ جوابی حملے کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب، کریملن کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ٹرمپ کی 80ویں سالگرہ پر ان سے فون پر بات کی اور یوکرین اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی واضح کیا ہے کہ اس کی فوج کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ تمام پیش رفت ایک ایسے نازک موقع پر ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں اور میدان جنگ کی کارروائیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔
