وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان: ثالثی کی کوششیں رنگ لائیں
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئےوں فریقین کو مبارکباد دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت کے تحت فوری جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحری گذرگاہ کی بحالی، اور 60 دنوں کے اندر ایک حتمی سمجھوتے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز: آخری لمحات میں فیسیابی کی شق شامل
ان کی فارس نیوز ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ معاہدے کے اعلان سے کچھ دیر قبل اس کے متن میں آبنائے ہرمز پر بحری خدمات کی فیسوں سے متعلق ایک شق شامل کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ “مذاکرات کے آخری لمحات میں، مفاہمت نامے کے متن میں ترمیم کر کے واضح طور پر آبنائے ہرمز پر ایرانی عمانی خودمختاری کے مسئلے پر زور دیا گیا۔”
فارس نیوز کے مطابق، “بحری خدمات” کی اصطلاح کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ ایران کو فیس ادا کی جائے گی۔
عالمی ردعمل: امیدوں اور تحفظات کا امتزاج
اس تاریخی معاہدے پر عالمی ردعمل ملا جلا رہا۔ جرمن حکومت کے ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی معاشی بحالی اور خطے میں استحکام کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
متحدہ عرب امارات نے معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ سعودی عرب نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی پائیدار امن معاہدہ خطے کی ریاستوں کے سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
پاکستان اور جاپان کی مشترکہ پذیرائی
پاکستان اور جاپان نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کا خیرمقدم کیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی کا ٹیلی فونک کال موصول ہوا، جس میں جاپان نے پاکستان کے ثالثی کردار اور تعمیری کوششوں کی گہری تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس پیش رفت کو علاقائی استحکام اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کے لیے اہم قرار دیا۔
اسرائیلی شدت پسند وزرا کی مخالفت
دوسری جانب، اسرائیل کے شدت پسند وزرا نے اس معاہدے کی شدید مذمت کی ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے کہا کہ “ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا… یہ ہماری سلامتی کا تحفظ نہیں کرتا۔” انہوں نے حزب اللہ کو ختم کرنے اور لبنان میں مزید سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے بھی اس معاہدے کو اسرائیل کے لیے برا قرار دیتے ہوئے ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے مہم جاری رکھنے پر زور دیا۔
