پاک فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ پیر کے روز خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے قریب معمول کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار دونوں پائلٹ شہید ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ حادثہ ایک معمول کی مشق کے دوران پیش آیا۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں شہید ہونے والے پائلٹوں کی شناخت پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاک بحریہ کے لیفٹیننٹ طحہ عباسی کے ناموں سے کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایئر ہیڈکوارٹرز نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ایک بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دی ہے۔
اعلیٰ حکام کا اظہار تعزیت
پاک فوج کے سربراہ اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دیگر سروسز چیفس اور مسلح افواج کے تمام جوانوں کے ہمراہ اس قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے شہید پائلٹوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی الگ الگ بیانات میں مردان کے قریب پاک فضائیہ کے تربیتی طیارے کے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور لیفٹیننٹ طحہ عباسی کی شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ قوم اپنے ان بہادر بیٹوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی جنہوں نے ملک کے دفاع کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شہید پائلٹوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن بے مثال ہے۔
حادثات کا سلسلہ
یہ تازہ ترین حادثہ پانچ روز قبل پیش آنے والے ایک اور فضائی واقعے کے بعد رونما ہوا ہے۔ دس جون کو پاک فوج کے شعبہ ہوابازی کا ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب پرواز کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں تمام عملہ شہید ہو گیا تھا۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں فوجی ہیلی کاپٹر کی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آنے والے حادثے میں پانچ اہلکار شہید ہوئے تھے۔
