# خلیجی ممالک کے لیے امریکی اتحاد ناکافی: قطر کا اہم انکشاف
ابوظہبی — ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ساتویں ماہ میں داخل ہوتے ہی خلیجی عرب ممالک کی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اتوار کو ابوظبی میں ہونے والے ہیلی فورم میں کہا کہ خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
## امریکی اتحاد کے باوجود سلامتی کے چیلنجز
الانصاری نے واضح کیا کہ “خطے میں بین الاقوامی افواج کی موجودگی اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد بہت اہم ہے لیکن کافی نہیں۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ “سلامتی کے معاملے میں خود کفالت ہی واحد راستہ ہے۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران جنگ نے خلیجی ممالک کی سلامتی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے یہ تنازع مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
## آبنائے ہرمز: بحران کا مرکز
آبنائے ہرمز اب بھی اس بحران کا سب سے اہم مرکز ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز “مکمل طور پر بند” ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ یہ آبی گزرگاہ کھلی ہے “ایک بڑا جھوٹ” ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق، حالیہ ٹینکر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پچھلے دس دنوں میں اوسطاً دس تجارتی جہاز روزانہ اس آبی گزرگاہ سے گزرے ہیں، جو جمعہ کو پندرہ سے زائد اور ہفتہ کو تقریباً تیرہ تھی۔
## اقتصادی اثرات اور ایندھن کا بحران
اس جنگ کے معاشی اثرات بھی شدید ہیں۔ ماہرین کے مطابق جہازوں اور بجلی گھروں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قلت تیسری سہ ماہی میں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ تیل صاف کرنے والے ادارے ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی پیداوار کو ترجیح دے رہے ہیں جس سے شپنگ ایندھن کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچر میں 52 سینٹ یا 0.54 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ 96.80 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تیل 66 سینٹ یا 0.72 فیصد بڑھ کر 92.14 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
## ایرانی موقف اور سفارتی کوششیں
ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یہ جنگ شروع کی لیکن اب پوری دنیا سے اس کا بل وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے سمپسنز کارٹون کی تصویر شیئر کرتے ہوئے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ آبنائے ہرمز میں خلل پیدا کرنے کے بعد اس کا الزام ایران پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اتوار کو تہران پہنچا ہے اور قطری وزیراعظم کے سینئر مشیر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔ سعودی عرب اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے بھی کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی حفاظت پر زور دیا ہے۔
## اسرائیلی موقف
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ “ایرانی حکومت کا خاتمہ قریب ہے” اور اس کے گرنے سے “مشرق وسطیٰ اور یہودی لوگوں کی تقدیر بدل جائے گی۔”
امریکی توانائی سیکرٹری کرس رائٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ سفارتی حل کے لیے ہمیشہ تیار ہے، لیکن امریکی فوج کا سب سے بڑا کردار ایران کی تیل اور توانائی برآمدات کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ان کی معیشت کا گلا گھونٹ رہے ہیں تاکہ موجودہ حکومت کی پالیسی میں تبدیلی آئے یا نئی حکومت آئے۔”
## متاثرہ علاقے
لبنان میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ لبنانی ریاستی میڈیا کے مطابق جنوبی گاؤں پر اسرائیلی حملے میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یمن میں بھی حکومتی افواج نے حوثیوں کے خلاف کئی محاذوں پر پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ جنگ نہ صرف خطے کے لیے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے، اور خلیجی ممالک اب اپنی سلامتی کے نئے متبادل ذرائع پر غور کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
