# ٹرمپ کا ایک اور متنازع اقدام: نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرنے کی تجویز
**واشنگٹن:** امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں انہوں نے نیو میکسیکو ریاست کا نام تبدیل کرکے ’نیو امریکہ‘ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ اقدام ان کی جانب سے حالیہ دنوں میں مختلف جغرافیائی مقامات کے نام تبدیل کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔
## صدر کا مؤقف اور وائٹ ہاؤس کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ بہت سے لوگوں نے تجویز دی ہے کہ نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’نیو امریکہ‘ رکھا جائے۔ انہوں نے اس نام کو ’زیادہ باوقار اور خوبصورت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست ’ناقابل یقین صلاحیتوں‘ کی حامل ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بھی صدر کے اس پیغام کو دوبارہ شیئر کیا، جس میں میکسیکو کے لفظ کو کاٹ کر اس کی جگہ امریکہ لکھا گیا تھا۔
## گورنر کا سخت ردعمل
ریاست نیو میکسیکو کی ڈیموکریٹ گورنر مشیل لوجان گریشام نے اس تجویز کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ فاکس نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ نام ’کسی بحث کا موضوع نہیں ہے، یہ ہمارا نام ہے جو امریکہ کے قیام سے بھی پہلے سے موجود ہے۔‘ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر عوام کی توجہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
## نام تبدیل کرنے کا سلسلہ
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب صدر ٹرمپ نے کسی جغرافیائی مقام کا نام تبدیل کرنے کی تجویز دی ہو۔ گزشتہ دنوں انہوں نے:
– جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکہ‘ رکھنے کا حکم نامہ جاری کیا
– آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ’ٹرمپ آبنائے‘ رکھنے کی تجویز دی
– جنوری 2025 میں خلیج میکسیکو کا نام یکطرفہ طور پر تبدیل کرکے ’خلیج امریکہ‘ رکھ دیا
## تجزیہ کاروں کا خیال
مبصرین کے مطابق نام تبدیل کرنے کا یہ سلسلہ دراصل عوامی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے، اور ریپبلکن پارٹی نومبر میں ہونے والے کانگریسی انتخابات میں شدید شکست کا خدشہ رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیو میکسیکو کے نام کی تبدیلی کی یہ افواہ دراصل ایک انٹرنیٹ مذاق سے شروع ہوئی تھی، جسے بعد میں حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا۔
