# ایلون مسک کی بیٹی کا باپ کو للکارا: ڈیزیگول کی مہم میں والد کے خلاف زہریلے طنز
**اسپین کی مشہور فیشن برانڈ ڈیزیگول نے اپنی نئی مہم “Born to Disobey” (نافرمانی کے لیے پیدا ہوئی) میں ایلون مسک کی بیٹی ویوین ولسن کو اپنا چہرہ بنایا ہے، جس میں انہوں نے اپنے والد اور ان کی ٹیسلا روبوٹکس ٹیکنالوجی کو نشانہ بنایا ہے۔**
ویوین ولسن، جو ایلون مسک کی پہلی بیوی جسٹن مسک سے پیدا ہوئی ہیں، نے اپنی جنسی تبدیلی کے بعد اپنے والد سے تعلقات منقطع کر لیے تھے۔ اب انہوں نے ڈیزیگول کی اس مہم میں بطور ماڈل کام کیا ہے، جس میں وہ ٹیسلا کے آپٹیمس روبوٹ سے مشابہت رکھنے والے ایک روبوٹ کو تنقید کا نشانہ بناتی نظر آتی ہیں۔
## ویڈیو میں والد کے خلاف واضح پیغام
اس مہم کی ویڈیو میں ویوین ولسن کو ایک روبوٹ کے ساتھ دکھایا گیا ہے جس کا نام “DESI84” رکھا گیا ہے اور جو ٹیسلا کے آپٹیمس روبوٹ سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ ویڈیو میں وہ کہتی ہیں، “وہ اطاعت کے لیے بنایا گیا تھا۔ میں نہیں۔”
ویڈیو کے دیگر مناظر میں وہ اس روبوٹ کو گولف کلب سے مارتی ہیں، اسے پٹے پر چلاتی ہیں اور اس کا مذاق اڑاتی ہیں کیونکہ وہ ڈیزیگول کا نام درست طریقے سے ادا نہیں کر پاتا۔ ایک منظر میں وہ کہتی ہیں، “کچھ چیزیں مرمت کے لیے نہیں بنائی جاتیں” – ایک ایسا جملہ جسے بہت سے لوگ ایلون مسک کے ساتھ ان کے تعلقات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
## والد کے ساتھ تلخ تعلقات کی داستان
ویوین ولسن 2004 میں پیدا ہوئیں اور 16 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی جنسی تبدیلی کا آغاز کیا۔ ایلون مسک نے بعد میں دعویٰ کیا کہ انہیں “دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے پھنسایا گیا” تھا، جبکہ ویوین کا کہنا ہے کہ ان کے والد اس عمل کے بارے میں پوری طرح آگاہ تھے۔
اپنی 18ویں سالگرہ پر ویوین نے قانونی طور پر اپنی والدہ کا خاندانی نام “ولسن” اپنا لیا اور ایلون مسک سے اپنے تعلقات مکمل طور پر منقطع کر لیے۔ اس کے بعد سے وہ ایک اہم ٹرانس جینڈر حقوق کی کارکن اور ماڈل بن گئی ہیں۔
ایلون مسک نے اپنی بیٹی کے بارے میں متنازع بیانات دیے ہیں، جن میں یہ کہنا بھی شامل ہے کہ ان کا بچہ “مر چکا ہے” اور “ووک وائرس” سے “متاثر” ہے۔ ویوین نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا، “میں ایک مردہ کتیا کے لیے بہت اچھی حالت میں ہوں۔”
## مصنوعی ذہانت کے خلاف آواز
ڈیزیگول کی یہ مہم صرف ایلون مسک پر تنقید تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف بھی ایک مؤقف ہے۔ ویوین ولسن نے کہا، “ہر چیز کے لیے AI استعمال کرنا بند کریں، ورنہ آپ خود کو بے حس بنا لیں گے۔ اپنی تنقیدی سوچ AI کو سونپ دینا آپ کی انفرادیت کھونے کا یقینی طریقہ ہے۔”
ڈیزیگول برانڈ نے اس مہم کے بارے میں کہا ہے کہ یہ “بدیہی، تخلیقی صلاحیتوں اور انسانیت” کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ برانڈ نے ویوین ولسن کی “آزاد اور بے باک شخصیت” کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ وہ “ایسی نئی نسل کی نمائندگی کرتی ہیں جو قالبوں میں نہیں بند ہونا چاہتی بلکہ اپنی شناخت کے ساتھ اظہار کرنا چاہتی ہے۔”
یہ مہم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایلون مسک ٹیسلا کے ہیومنائیڈ روبوٹ “آپٹیمس” کو فروغ دے رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہم ٹیکنالوجی کے اندھادھند فروغ اور اس کے انسانی معاشرے پر اثرات کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھاتی ہے۔
