امریکہ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے فروغ نے ڈیٹا سینٹرز کو سیاست کا ایک گرما گرم مسئلہ بنا دیا ہے۔ یہ بڑی عمارتیں، جو کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور AI ماڈلز کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے انتخابی خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو ان تنصیبات کے مخالفین پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کو “پسماندہ اور غریب” دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مڈٹرم انتخابات سے قبل یہ مسئلہ کتنا حساس بن چکا ہے۔
عوامی مخالفت میں اضافہ
اس سال کے آغاز سے اب تک امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے سیاسی اشتہارات پر 31 ملین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جا چکے ہیں، جو کہ نمایاں اضافہ ہے۔ سی این این کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، یہ اعداد و شمار اس مسئلے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے پر ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں ایک ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، جو امریکی سیاست میں ایک نایاب اتفاق ہے۔
ڈیٹا سینٹرز کی بے تحاشہ توسیع
ڈیٹا سینٹرز کوئی نئی چیز نہیں، لیکن AI انقلاب نے ان کی تعداد اور حجم میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ اس وقت امریکہ میں 3000 سے زائد ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں، جو دنیا بھر کی تقریباً نصف تنصیبات ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق، مزید 1500 منصوبے زیر تکمیل ہیں۔
- ورجینیا، ٹیکساس اور کیلیفورنیا میں سب سے زیادہ ڈیٹا سینٹرز بن رہے ہیں
- 38 فیصد امریکی اب ڈیٹا سینٹر سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر رہتے ہیں
- گیلپ کے مئی کے سروے کے مطابق، 70 فیصد امریکی اپنے گھر کے قریب ڈیٹا سینٹر کی تنصیب کے خلاف ہیں
ٹرمپ کی حکمت عملی کو چیلنج
ٹرمپ ہمیشہ سے ڈیٹا سینٹرز کو چین کے مقابلے میں اسٹریٹجک اہمیت کا حامل اور معیشت کا محرک سمجھتے رہے ہیں، لیکن یہ نعرہ اب عوام پر اپنا اثر کھوتا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی عوامی مخالفت صدر کی انتخابی مہم کو کمزور کر رہی ہے اور ممکنہ طور پر کانگریس میں ان کی اکثریت کو خطرہ لاحق ہو سکتی ہے۔
یہ مسئلہ نہ صرف ماحولیاتی خدشات سے جڑا ہے بلکہ بجلی کی قیمتوں، پانی کے استعمال اور زمین کے حصول جیسے معاملات پر بھی مقامی آبادی میں تشویش پیدا کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انتخابی مسئلہ آئندہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
