پشاور: کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے کے بعد شروع کیے گئے سیکیورٹی آپریشن کو مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کر کے علاقے کی اہم عمارتوں کو کلیئر کیا، جبکہ حملے اور اس کے بعد ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکتوں کی تعداد 23 تک پہنچ گئی ہے۔
آٹھ دہشت گرد ہلاک، اہم عمارتیں کلیئر
خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور پولیس لائنز کے اندر موجود اہم عمارتیں کلیئر کر دی گئی ہیں۔
پولیس لائنز کے اندر اسپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہونے والے دہشت گرد بھی آپریشن کے دوران ہلاک کر دیے گئے۔ گزشتہ روز سے جاری کلیئرنس آپریشن سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو حملہ آوروں سے پاک کرنے کے بعد مکمل کیا۔
سی ٹی ڈی ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے خود آپریشن کی قیادت اور نگرانی کی۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے ایڈیشنل آئی جی کو ہینڈ گرنیڈ سے نشانہ بنایا، جس سے ان کے بازو پر چوٹ آئی۔ طبی علاج کے بعد ایڈیشنل آئی جی موقع پر واپس آئے اور آپریشن کی نگرانی جاری رکھی۔
آئی جی ذوالفقار حمید نے کہا کہ ایلیٹ فورس کمانڈوز، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر کلیئرنس آپریشن مکمل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خودکش حملہ آور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ناکام رہا۔
خیبر پختونخوا کے پولیس چیف موقع پر موجود رہے اور بتایا کہ سی ٹی ڈی ایڈیشنل آئی جی، ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) نے آپریشن کی قیادت کی۔ جی او سی کوہاٹ بھی موقع پر موجود تھے۔
ہلاکتوں کی تعداد 23 تک پہنچ گئی
کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے اور اس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکتوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔ شہداء میں ایک ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹر سمیت کئی دیگر پولیس اہلکار شامل ہیں۔
حملہ پرانی پولیس لائنز کے قریب پیش آیا، جہاں بارود سے بھری گاڑی علاقے میں ٹکرا دی گئی، جس کے بعد اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب ایک اور خودکش حملہ ہوا۔ دھماکوں سے علاقے میں بھاری نقصان ہوا، جس میں مسجد کے بیرونی حصے کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ ایک دیوار بھی گر گئی۔
سات مسلح حملہ آوروں کی دراندازی
دھماکوں کے بعد سات مسلح عسکریت پسند پولیس لائنز کے احاطے میں گھس گئے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے عسکریت پسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ کیا، جس کے دوران ابتدائی طور پر ایک عسکریت پسند سنائپر مارا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے بعد ازاں باقی دہشت گردوں کو ختم کرنے اور عمارتوں کو محفوظ بنانے کے لیے کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔
103 زخمی ہسپتال منتقل
حکام کے مطابق دھماکوں کے بعد 103 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔ چونتیس زخمی زیر علاج رہے، جبکہ پانچ مریضوں کے لیپروٹومی کے عمل ہوئے اور چار شدید زخمی مریضوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں حملے کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ریسکیو اور سیکیورٹی آپریشن جاری رہنے کے باعث کوہاٹ۔ہنگو روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
ریسکیو 1122 نے ایمرجنسی رسپانس کی معاونت کے لیے 14 ایمبولینسز، ریسکیو اور ریکوری گاڑیاں اور 40 سے زائد اہلکار تعینات کیے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نورالامین نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی، جبکہ امدادی سرگرمیاں آپریشن مکمل ہونے تک جاری رہیں۔
ریسکیو حکام نے ملبے سے دو اہلکاروں کی لاشیں بھی نکال کر کوہاٹ ہسپتال منتقل کیں۔ حملے کے بعد شہداء کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔
آئی جی کی جانب سے انعامات کا اعلان
آئی جی ذوالفقار حمید نے کہا کہ کے پی پولیس دہشت گردی کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی اور اس طرح کے حملے اہلکاروں کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکیں گے۔
خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل نے آپریشن میں حصہ لینے اور پولیس لائنز کی کامیاب کلیئرنس مکمل کرنے والے اہلکاروں کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا۔
مذمت اور ہدایات
صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حملے کی مذمت کی اور جانی نقصان اور زخمیوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ زرداری نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے اور حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کے لیے فوری طبی علاج کو یقینی بنایا جائے۔
وزیراعظم شہباز نے دھماکے کی شدید مذمت کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین ممکنہ طبی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی اور حملے کی نوعیت اور اسباب سے متعلق رپورٹ طلب کی۔
وزیراعظم نے مزید ہدایت دی کہ امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جائے اور متاثرین کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے بھی دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کے فوری علاج اور ہسپتالوں میں ضروری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
آفریدی نے شدید زخمی مریضوں کو ضرورت کے مطابق دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کی ہدایت کی اور حکام کو کہا کہ وہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے ساتھ سیکیورٹی فورسز نے کوہاٹ پولیس لائنز کے اندر اہم عمارتیں کلیئر کر دی ہیں اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ آپریشن سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس کمانڈوز، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔
