لاہور: پنجاب میں رواں سال یکم جنوری سے 31 اگست 2026 تک سانپ ڈسنے کے کم از کم 1,060 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں چھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار ریسکیو 1122 کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
متاثرین میں مرد اور خواتین کی تعداد
ریسکیو 1122 کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں سانپ کے کاٹنے سے متاثر ہونے والوں میں 614 مرد اور 446 خواتین شامل ہیں۔
مون سون میں کیوں بڑھتے ہیں واقعات؟
محکمہ وائلڈ لائف کے ترجمان کے مطابق مون سون کے موسم میں سانپ ڈسنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ نشیبی علاقوں اور غیر رسمی بستیوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس کے باعث سانپ خشک اور محفوظ مقامات کی تلاش میں آبادیوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔
شہریوں کو احتیاطی تدابیر کی ہدایت
محکمہ وائلڈ لائف کے ترجمان نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خاص طور پر بارش کے موسم میں سانپوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
- گھروں اور صحنوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں
- نشیبی اور غیر محفوظ علاقوں میں احتیاط برتیں
- گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں
- سانپ نظر آنے پر فوری ریسکیو 1122 کو اطلاع دیں
- سانپ ڈسنے کی صورت میں مریض کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کریں
عوامی شعور کی ضرورت
ماہرین کے مطابق سانپ ڈسنے کے واقعات میں کمی کے لیے عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ شہری بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں اور ہنگامی صورت حال میں فوری طبی امداد حاصل کر سکیں۔
