روس میں پارلیمانی انتخابات کے دوران یوکرین جنگ کے تجربہ کار فوجیوں کو نمایاں طور پر انتخابی مہمات میں پیش کیا جا رہا ہے، جہاں ان کی جنگی داستانیں ووٹروں کو متاثر کرنے کا اہم ذریعہ بن گئی ہیں۔
جنگی تجربہ کاروں کی انتخابی مہم
پولیسکووئے کے ایک چھوٹے سے ٹاؤن ہال میں، مقامی کارکنوں اور عہدیداروں کی ایک جماعت خاموشی سے ایک شخص کی بات سن رہی ہے جو اپنی جنگی یادوں کو تازہ کر رہا ہے۔ میکسم چولوموف، جس نے 2022 میں یوکرین میں روسی فوج کی ایک پلاٹون کی قیادت کی تھی، اپنے سامعین کو بتا رہا ہے کہ کیسے ایک راکٹ نے اس کا بایاں بازو اچھال دیا تھا۔ آج اس کی سیاہ مصنوعی کلائی اس کی آستین سے باہر جھانکتی ہے۔
یہ منظر روس بھر میں انتخابی مہمات کا ایک عام نمونہ بن گیا ہے، جہاں یوکرین جنگ کے تجربہ کار فوجیوں کو “جنگ کے ہیرو” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور انہیں پارلیمانی نشستوں کے لیے امیدوار بنایا جا رہا ہے۔
انتخابات کی تفصیلات
اس ہفتے کے آخر میں روس میں ووٹنگ ہو رہی ہے جس میں:
- ڈوما کے 450 ارکان کا انتخاب
- 11 علاقائی گورنرز کا تقرر
- 39 علاقائی پارلیمانوں کی تشکیل نو
- ہزاروں میونسپل کونسلرز کا انتخاب
یہ انتخابات روس کی سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں جنگ کے تجربہ کاروں کو سیاسی میدان میں اترنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
سیاسی پیغام
یوکرین جنگ کے تجربہ کاروں کی انتخابی مہمات میں پیشی کو کریملن کی جانب سے ایک واضح سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں جنگ کی حمایت اور محب وطن جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان امیدواروں کی جنگی داستانیں ووٹروں کے جذبات سے کھیلنے اور قومی یکجہتی کا احساس پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ حکمت عملی روسی حکومت کی جانب سے جنگ کے حوالے سے عوامی حمایت کو برقرار رکھنے اور سیاسی نظام میں وفادار عناصر کو شامل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
