پیرو کے دور افتادہ علاقے کوئروپالکا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بائیں بازو کے امیدوار ہٹلر مسولینی سیمون فلورس نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ان کے نام نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، حالانکہ ان کا نظریاتی تعلق اس نام سے کوئی نہیں۔
انتخابی نتائج
پیرو کے قومی انتخابی ادارے کے مطابق، بائیں بازو کی جماعت اہورا ناسیون کے امیدوار ہٹلر مسولینی سیمون فلورس نے 663 ووٹوں میں سے 229 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدمقابل انتہائی دائیں بازو کے امیدوار گاسپار اوسوریو کو 204 ووٹ ملے۔
45 سالہ ہٹلر مسولینی سیمون فلورس پیشے کے لحاظ سے ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک ہیں۔ وہ یکم جنوری 2027 سے کوئروپالکا کے میئر کے طور پر اپنے فرائض سنبھالیں گے۔ کوئروپالکا پیرو کے شمال مشرقی علاقے ہوانوکو میں واقع ہے، جو اینڈیز پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے۔
عالمی توجہ کا مرکز
اگرچہ یہ گاؤں ایک ہزار سے بھی کم افراد پر مشتمل ہے، لیکن ہٹلر مسولینی کے انتخاب نے اس دور افتادہ علاقے کو غیر معمولی بین الاقوامی توجہ دلائی ہے۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اسے دلچسپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی میڈیا نے بھی اس امیدوار کی جانب توجہ دی جو بیسویں صدی کی دو مشہور آمرانہ شخصیات کے نام رکھتا ہے۔
جنوبی امریکہ میں ناموں کی روایت
جنوبی امریکہ، خصوصاً دیہی علاقوں میں ہٹلر، لینن، اسٹالن یا ماؤ جیسے نام رکھنے کا رواج عام ہے۔ یورپی نقطہ نظر سے یہ حیران کن لگ سکتا ہے، لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض والدین تاریخی شخصیات کے نام اپنے بچوں کے لیے منتخب کرتے ہیں، اس شخصیت یا اس کے نظریے کے بارے میں مکمل معلومات کے بغیر۔
- 2021 میں ایک درمیانے درجے کے ڈاکٹر ہٹلر ساویدرا کاسترنوکے پیرو کی پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوئے تھے۔
- 2018 میں ہٹلر البا سانچیز اینڈیز کے ضلع یونگار کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران خود کو ’نیک دل ہٹلر‘ قرار دیا تھا۔
- بی بی سی کے مطابق، اس انتخاب میں ان کا مقابلہ لینن ولادیمیر روڈریگوز والورڈے نامی امیدوار سے تھا۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح تاریخی شخصیات کے نام جنوبی امریکی ثقافت میں اپنی الگ جگہ رکھتے ہیں، جہاں ان کے سیاسی مفہوم سے زیادہ ان کی تاریخی حیثیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
