پیرس: دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے میوزیم لوور کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر فرانس کی آئندہ حکومت نے میوزیم کی جامع بحالی کے منصوبے کی حمایت نہ کی تو ایک دن عوام کے لیے اس کے دروازے بند کرنے پڑ سکتے ہیں۔
ڈائریکٹر کرسٹوف لیریبو نے فرانسیسی اخبار لی فگارو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میوزیم اس کام کے لیے نجی فنڈنگ حاصل کرے گا، تاہم اگلے سال ہونے والے قومی انتخابات کے بعد بڑی سرکاری سرمایہ کاری کی منظوری ناگزیر ہوگی۔
وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم
انہوں نے کہا کہ جو بھی اگلی حکومت بنے گی، اسے یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ اگر لوور کی مرمت، جدید کاری اور بحالی نہ کی گئی تو یہ بہت جلد پیچھے رہ جائے گا اور بالآخر عوام کے لیے بند کرنا پڑے گا، جو ایک تباہی ہوگی۔
فرانس میں مسلسل اقلیتی حکومتوں کو برسوں سے سالانہ بجٹ منظور کرانے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، جبکہ وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو ملک کے بھاری خسارے کو کم کرنے کے لیے سرکاری اخراجات میں کمی کی کوشش کر رہے ہیں۔
زیورات کی چوری کے ایک سال بعد
لیریبو، جو آرٹ کی تاریخ دان ہیں اور اس سے قبل میوزی دورسے کے سربراہ رہ چکے ہیں، فروری میں اس وقت عہدے پر آئے جب گزشتہ سال ہونے والی زیورات کی چوری کے تنازعے کے بعد لارنس ڈی کارس نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
19 اکتوبر 2025 کو چار افراد کے ایک گروہ نے لاری پر نصب لفٹنگ پلیٹ فارم کے ذریعے اپالو گیلری میں دن دیہاڑے گھس کر فرانسیسی تاج کے زیورات کے آٹھ ٹکڑے چرائے تھے، جن کی مالیت تقریباً 88 ملین یورو بتائی گئی۔ سینیٹ کی تحقیقات میں بعد ازاں انکشاف ہوا کہ چوری کے مقام کی نگرانی کرنے والے دو کیمروں میں سے صرف ایک کام کر رہا تھا۔ یہ زیورات آج تک برآمد نہیں ہو سکے۔
اس واقعے کی پہلی برسی سے قبل اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے لیریبو نے بتایا کہ 83 ملین یورو کے سیکیورٹی ماسٹر پلان پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس میں سیکیورٹی کے نئے سربراہ کا تقرر، جدید کیمرہ نیٹ ورک کی تنصیب اور عمارت کے گردونواح اور داخلی راستوں پر بہتر نگرانی شامل ہے۔
کوئی معجزاتی حل نہیں
لیریبو کا موقف ہے کہ دیرپا بہتری صرف میوزیم کی جامع بحالی کے حصے کے طور پر ممکن ہے۔ گزشتہ سال تقریباً نو ملین سیاحوں نے لوور کا دورہ کیا۔
انہوں نے لکھا کہ میوزیم کو محفوظ بنانے کے لیے درکار کام تاریخی عمارت اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کا تقاضا کرتے ہیں، کوئی آسان یا معجزاتی سطحی حل موجود نہیں، سب کچھ باہم جڑا ہوا ہے۔
یہ میوزیم 1793 میں عوام کے لیے کھولا گیا تھا اور اس موسم گرما میں اس کی 233ویں سالگرہ منائی گئی۔
بوسیدہ پلمبنگ اور تنگ جگہیں
میوزیم کے مسائل میں پرانی پلمبنگ، ناقص موصلیت والی گیلریاں اور تنگ عوامی جگہیں شامل ہیں۔ جنوری 2025 میں ڈی کارس کے ایک لیک ہونے والے نوٹ میں کہا گیا تھا کہ کچھ علاقے اب پانی روکنے کے قابل نہیں رہے اور لوور کا دورہ ایک جسمانی آزمائش بن چکا ہے۔ فروری میں گرم پانی کے ایک پھٹے ہوئے پائپ نے 1819 میں چارلس مینئر کے بنائے ہوئے چھت کے نقش کو نقصان پہنچایا تھا۔
سیاسی تنازعہ
اس کام کی وسعت اور لاگت انتہائی سیاسی نوعیت اختیار کر گئی ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے لوور نیو رینیسنس منصوبے کی حمایت کی ہے، جس میں ایک نیا داخلی دروازہ شامل ہے اور حکومت کے اندازے کے مطابق اس پر دس سال میں 700 سے 800 ملین یورو خرچ آئیں گے۔ اس منصوبے کی جزوی مالی معاونت زیادہ تر غیر یورپی سیاحوں کے ٹکٹ کی قیمت میں 45 فیصد اضافے سے کی جائے گی۔
ٹریڈ یونینوں نے میکرون اور ڈی کارس پر تنقید کی ہے کہ انہوں نے سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنانے کے سادہ اقدامات کے بجائے معماری کی جامع تبدیلی کے پرجوش منصوبوں کو ترجیح دی۔
