جیسے ہی خزاں کا موسم آتا ہے اور درجہ حرارت گرنے لگتا ہے، فارمیسیوں کی ریکوں پر رنگ برنگے پیکنگ میں وٹامنز اور سپلیمنٹس صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگتے ہیں۔ یہ گولیاں اور گمی گمز ہمیں قدرتی قوت مدافعت بڑھانے، تھکن کم کرنے اور یہاں تک کہ نیند بہتر بنانے کے دلکش وعدے کرتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ وعدے واقعی پورے ہوتے ہیں؟
سپلیمنٹس کا بڑھتا ہوا رجحان
فرانس کے نیشنل سنڈیکیٹ آف فوڈ سپلیمنٹس کے مطابق، 2024 میں 61 فیصد فرانسیسی شہریوں نے فوڈ سپلیمنٹس کا استعمال کیا، اور 77 فیصد صارفین نے بتایا کہ وہ سال میں کئی بار ان کا استعمال کرتے ہیں۔ 2023 میں اس مارکیٹ کا تخمینہ 2.7 بلین یورو لگایا گیا تھا۔
وٹامن سی: ایک مبالغہ آمیز دعویٰ
وٹامن سی کو عام طور پر نزلہ زکام اور سانس کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ایک معجزاتی علاج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ وٹامن ہمارے جسم کے لیے ضروری ہے اور مدافعتی نظام کے صحیح کام کرنے میں مدد کرتا ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر جسم میں وٹامن سی کی کمی نہ ہو تو اس کی اضافی خوراک لینا بے کار ہے۔
امریکن نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق، ایک بالغ شخص کو روزانہ 110 ملی گرام وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے، جو ایک کیوی یا ایک شملہ مرچ میں موجود ہوتی ہے۔ بچوں کو بھی وٹامن سی کی اضافی خوراک کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ماہرین کے مطابق، اگر آپ سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کرتے ہیں تو سپلیمنٹس کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن اصل حل زیادہ وٹامن سی لینا نہیں بلکہ اپنی عادت کو کم کرنا ہے۔
میگنیشیم اور وٹامن ڈی: تھکن کے خلاف مؤثر
سردیوں کے سپلیمنٹس میں میگنیشیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ معدنیات توانائی کی پیداوار، دل اور اعصابی نظام کے صحیح کام کرنے میں مدد کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، موسم کی تبدیلی پر میگنیشیم لینا تھکن اور تناؤ کو کم کرنے اور بہتر نیند میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی طرح وٹامن ڈی بھی خزاں کی تھکن سے نمٹنے میں مفید ہے۔ یہ دراصل ایک ہارمون ہے جو جسم کے مجموعی میٹابولزم میں حصہ لیتا ہے اور ہڈیوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کے لیے ضروری ہے۔ سردیوں میں سورج کی روشنی کم ہونے کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی ہو سکتی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق ہر شخص کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔
زیادہ مقدار لینے سے بچیں
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کوئی بھی سپلیمنٹ نزلہ زکام کو روک نہیں سکتا اور نہ ہی اس کا علاج کر سکتا ہے۔ اگر آپ بار بار بیمار ہوتے ہیں تو اس کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور خون کا ٹیسٹ کروائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ واقعی کوئی کمی ہے یا نہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سپلیمنٹس کی زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ زیادہ سپلیمنٹس لینے سے گردے کی بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ فرانس کی صحت کی ایجنسی نے بھی متنبہ کیا ہے کہ سپلیمنٹس صرف صحت کے پیشہ ور افراد کے مشورے سے لینے چاہئیں اور معجزاتی دعووں والی مصنوعات سے بچنا چاہیے۔
- وٹامن سی کی اضافی خوراک صرف کمی کی صورت میں ضروری ہے
- میگنیشیم تھکن اور تناؤ کم کرنے میں مددگار ہے
- وٹامن ڈی بچوں، نوعمروں اور بزرگوں کے لیے تجویز کی جاتی ہے
- سپلیمنٹس کی زیادہ مقدار گردوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے
- کسی بھی سپلیمنٹ سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے
خلاصہ یہ ہے کہ موسم کی تبدیلی پر سپلیمنٹس لینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کے جسم کو واقعی کس چیز کی ضرورت ہے۔ متوازن غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ ورزش کسی بھی گولی سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
