ملتان: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے سینئر افسران سمیت چھ ملزمان کو گندم کی مبینہ خردبرد کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے، جس سے قومی خزانے کو 347.6 ملین روپے سے زائد کا نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔
گرفتار ملزمان میں کون شامل ہیں؟
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان میں پاسکو کے ملتان زون کے ڈپٹی جنرل منیجر (ڈی جی ایم)، پروجیکٹ منیجر اور وِجی لینس آفیسر شامل ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے سرکاری گندم کی خردبرد کی، جس سے قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا۔
مقامی گندم کی خردبرد: 332.1 ملین روپے کا نقصان
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے سنہ 2024 میں مقامی طور پر خریدے گئے گندم کے 25,058 بوریوں کی مبینہ خردبرد کی، جس سے قومی خزانے کو 332.1 ملین روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ یہ گندم سرکاری سطح پر عوام کی غذائی ضروریات اور اسٹریٹجک ذخائر کے لیے خریدا گیا تھا۔
درآمدی گندم کی خردبرد: 15.4 ملین روپے کا اضافی نقصان
ایک علیحدہ الزام میں ملزمان پر سنہ 2022 میں درآمد شدہ 105.3 میٹرک ٹن گندم کی خردبرد کا بھی الزام ہے، جس سے حکومت کو تخمینہ 15.4 ملین روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق دونوں مقدمات میں مبینہ بے ضابطگیوں سے مجموعی نقصان 347.6 ملین روپے سے تجاوز کر گیا۔
مقدمہ نمبر 39/2026 اور مزید تفتیش
یہ گرفتاریاں مقدمہ نمبر 39/2026 کے سلسلے میں عمل میں آئی ہیں۔ ایف آئی اے ملتان نے مبینہ خردبرد کے حالات کی چھان بین اور ملزمان کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
قانونی کارروائی کا عمل
واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف الزامات ابھی قانونی کارروائی کے ذریعے ثابت نہیں ہوئے، اور تفتیشی مرحلے میں ملزمان کو قانون کے مطابق اپنا دفاع پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔
- گرفتار ملزمان کی تعداد: چھ، جن میں پاسکو ملتان زون کے ڈی جی ایم، پروجیکٹ منیجر اور وِجی لینس آفیسر شامل
- مقامی گندم کی خردبرد: 25,058 بوریاں، نقصان 332.1 ملین روپے سے زائد
- درآمدی گندم کی خردبرد: 105.3 میٹرک ٹن، نقصان 15.4 ملین روپے سے زائد
- مجموعی نقصان: 347.6 ملین روپے سے زائد
- مقدمہ نمبر: 39/2026، تفتیش ایف آئی اے ملتان کے زیرِ عمل
