اسٹریمنگ کی دنیا کی معروف کمپنی نیٹ فلکس نے اپنی افرادی قوت کے تقریباً چھ فیصد یعنی ایک ہزار ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ 2022 کے بعد کمپنی کی سب سے بڑی چھانٹی ہے، جس کا انکشاف کمپنی کے اندرونی میمو سے ہوا ہے۔
نیٹ فلکس کے شریک سی ای او گریگ پیٹرز اور ٹیڈ سارانڈوس کی جانب سے بدھ کے روز ملازمین کو بھیجی گئی ای میل کے مطابق برطرفیوں کا بڑا حصہ پروڈکٹ، ٹیکنالوجی، قانونی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ہوگا۔
میمو میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو تفریح فراہم کرنے کا ہمارا مشن بلند حوصلہ ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنے افراد اور وسائل کو کہاں ترجیح دیں گے۔ کمپنی کے مطابق اس کا کاروبار مضبوط اور ترقی پذیر ہے اور وہ سالانہ پیش گوئی کے مطابق رہے گی۔
مارکیٹ میں دباؤ اور حصص کی کارکردگی
نیٹ فلکس کے حصص رواں سال اب تک تقریباً پچیس فیصد گر چکے ہیں، تاہم بدھ کے روز ان میں 0.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ گزشتہ سال کے اختتام پر کمپنی میں تقریباً سولہ ہزار ملازمین کام کر رہے تھے۔
رواں سال اس اسٹریمنگ کمپنی کو اپنی اس ترقی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے شکوک کا سامنا رہا ہے جس نے کیبل ٹی وی کے کاروبار پر دباؤ ڈال کر امریکی میڈیا انڈسٹری کو تبدیل کر دیا تھا۔
یوٹیوب اور ٹک ٹاک کا چیلنج
سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑی تشویش صارفین کی مصروفیت یعنی نیٹ فلکس پر گزارے جانے والے وقت میں کمی ہے۔ یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز مفت میں دیکھے جانے والے صارفین کے تیار کردہ مواد کے ذریعے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں، جس سے انہیں نیٹ فلکس کے مقابلے میں لاگت کا فائدہ حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے اوائل میں وارنر برادرز ڈسکوری کے اسٹریمنگ اور اسٹوڈیو اثاثوں کے حصول کی ناکام کوشش نے نیٹ فلکس کی حکمت عملی کے بارے میں شکوک کو مزید گہرا کر دیا۔ پیراماؤنٹ نے اس ماہ کے اوائل میں 110 بلین ڈالر میں وارنر برادرز کا حصول مکمل کر کے اسکائی ڈانس تشکیل دیا۔
آمدنی کے نئے ذرائع کی تلاش
مارکیٹ ریسرچ ادارے ای مارکیٹر کے سینئر تجزیہ کار راس بینس کے مطابق نیٹ فلکس آمدنی کا کوئی دوسرا بڑا ذریعہ تلاش نہیں کر سکی اور کمپنی اب بھی سبسکرپشن کے کاروبار پر انحصار کر رہی ہے جو ممکنہ طور پر اپنی حد کے قریب پہنچ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کمپنی اس معاملے میں حد کے قریب پہنچ رہی ہے، اس لیے اسے تنوع کے لیے آمدنی کے ایک نئے ذریعے کی ضرورت ہوگی اور یہی وہ شعبہ ہے جہاں اسے زیادہ مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
نیٹ فلکس اپنے سبسکرپشن کاروبار سے آگے بڑھنے کے لیے اشتہاری سطح، براہ راست نشریات اور گیمنگ میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
2022 کی برطرفیوں کی بازگشت
کمپنی کی گزشتہ بڑی برطرفی 2022 میں ہوئی تھی جب ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار سبسکرائبرز کھونے کے بعد اس نے دو مرحلوں میں تقریباً ساڑھے چار سو ملازمتیں ختم کی تھیں۔
ماہرین کے مطابق نیٹ فلکس کو درپیش چیلنجز صرف مقابلے تک محدود نہیں بلکہ اس کی حکمت عملی، آمدنی کے متنوع ذرائع اور صارفین کی دلچسپی برقرار رکھنے سے جڑے ہوئے ہیں، جن پر قابو پانا اسٹریمنگ انڈسٹری میں اس کی قیادت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
