ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں بدھ کی رات سے جاری شدید بارشوں نے بڑے پیمانے پر سیلاب پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بارشوں کے باعث گھر، کاروباری مراکز اور سڑکیں زیر آب آ گئیں، جبکہ انڈر پاسز میں پھنسے گاڑیوں نے ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا۔
ہلاکتوں کی تفصیلات
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ضلع فاتح کے ایک پارک میں پانی کے جوہڑ میں قدم رکھنے سے 14 سالہ بچہ بجلی کے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ ضلع سارییر میں ایک 34 سالہ شخص پھسل کر گر گیا اور سر پر چوٹ لگنے سے جانبر نہ ہو سکا۔
ریسکیو آپریشن اور انتظامی اقدامات
ریسکیو ٹیموں نے رات بھر کام کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو ان کے دفاتر سے نکالا، جہاں وہ پھنسے ہوئے تھے۔ راہگیروں نے بھی متاثرین کی مدد کی۔ استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی کے مطابق کچھ علاقوں میں 1985 کے بعد سے سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
- گورنر کے دفتر نے جمعرات کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا۔
- کچھ سرکاری ملازمین کو چھٹی پر بھیج دیا گیا۔
- شہریوں کو ہدایت دی گئی کہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔
- تہہ خانے والے اپارٹمنٹس میں رہنے والوں کو رات کہیں اور گزارنے کی تاکید کی گئی۔
- موٹر سائیکلوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی گئی۔
موسم کی صورتحال
جمعرات کی صبح بھی بارش جاری رہی۔ شہر کے کئی حصوں میں سڑکیں اور انڈر پاسز اب بھی زیر آب ہیں، جس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ حکام نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
