پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پشاور کے علاقے دیر کالونی میں اسکول سانحے میں جاں بحق بچوں کے خاندانوں کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے فی کس 2 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
خستہ حال عمارت کو این او سی دینے والوں کی تحقیقات کا حکم
گورنر فیصل کریم کنڈی نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ سابقہ حکومت کے دور میں اسکول کی خستہ حال عمارت کو این او سی (عدم اعتراض سرٹیفکیٹ) کس نے جاری کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذمہ دار پائے جانے والے افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہوں۔
اسکول کا دورہ، عمارتوں کی آڈٹ نہ ہونے پر تشویش
گورنر نے اسکول کا دورہ بھی کیا اور کہا کہ سابقہ حکومت کی غفلت کے باعث اسکولی عمارتوں کا آڈٹ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ غفلت میں ملوث افراد کو سزا ملے گی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقے یا ادارے سے ہو۔
چار دن میں مکمل ہوگی جامع تحقیقات
انہوں نے بتایا کہ تحقیقات چار دنوں کے اندر مکمل کر لی جائیں گی اور حکام ابتدائی انکوائری تک محدود رہنے کے بجائے جامع تحقیقات کر رہے ہیں۔
- جاں بحق بچوں کے خاندانوں کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ
- زخمی افراد کو فی کس 2 لاکھ روپے معاوضہ
- خستہ حال اسکول عمارت کو این او سی جاری کرنے والوں کی تحقیقات
- چار دن میں جامع تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت
- اسکول مالک سے متعلقہ سرکاری محکموں تک سب کی ذمہ داریوں کا جائزہ
ماضی کے واقعات پر تنقید
گورنر کنڈی نے ماضی کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی متعدد واقعات پیش آئے لیکن اکثر صرف فوٹو سیشن اور انکوائری کمیٹیوں کی تشکیل تک محدود رہے، جس کے بعد کوئی ٹھوس فالو اپ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار تحقیقات میں اسکول کے مالک سے لے کر متعلقہ سرکاری محکموں تک سب کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
