ریاض میں حالیہ حملوں کے باعث سعودی عرب کے کھیلوں کے کیلنڈر میں خلل کے باوجود ایشین کپ 2027 کی تیاریاں مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہیں۔ مقامی منتظمین نے جمعرات کو واضح کیا کہ ٹورنامنٹ آئندہ برس جنوری میں ہی منعقد ہوگا۔
خیال رہے کہ ہفتے کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ یمن کی حوثی تحریک نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جسے ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب میں سب سے ہلاکت خیز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے سربراہ کا بیان
ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے صدر سلمان بن ابراہیم الخلیفہ نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر ٹورنامنٹ کو 2028 تک ملتوی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مقامی آرگنائزنگ کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اب بھی اصل شیڈول کے مطابق ہیں، جس کے تحت ٹورنامنٹ 7 جنوری سے 5 فروری تک کھیلا جائے گا۔
کمیٹی کے مطابق، “تمام تنظیمی اور آپریشنل شعبوں میں تیاریاں منظور شدہ شیڈول کے عین مطابق جاری ہیں، جن میں اسٹیڈیم، سہولیات اور معاون خدمات پر کام شامل ہے۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ کمیٹی “ٹورنامنٹ سے متعلق پیش رفت کی نگرانی جاری رکھے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کے کامیاب انعقاد کے لیے مناسب حالات موجود ہوں۔”
کھیلوں کے کیلنڈر پر حملوں کے اثرات
ریاض پر حملوں کے اثرات سعودی عرب کے کھیلوں کے کیلنڈر پر پہلے ہی مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں۔
- نمائشی ٹینس ٹورنامنٹ “سکس کنگز سلیم” کو اکتوبر سے دسمبر تک منتقل کر دیا گیا ہے۔
- فیفا اور سعودی ای اسپورٹس فیڈریشن نے جمعرات کو فیفا ای فائنلز 2026 کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب خطے میں کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی میزبانی کے لیے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، اور ایشین کپ 2027 اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف کھیلوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرمایہ کاری اور سیاحت کے شعبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
