پیرس: فرانس کے شمالی مضافاتی علاقے سینٹ ڈینس میں اتوار کی سہ پہر کو ایک غیر معمولی سیاسی اجتماع منعقد ہوا، جس کا مقصد 2027 کے صدارتی انتخابات کے لیے جین لیوک میلانشون کی امیدواری کو عوامی محلوں کی نوجوان نسل میں مقبول بنانا ہے۔ اس موقع پر “آلیانس ڈیس نمبروز 10” کے نام سے ایک نئی سیاسی مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔
مقامی ریلوے اسٹیشن کے قریب چند سو افراد جمع ہوئے، جن میں سے بیشتر کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس تقریب کی اطلاع ملی تھی۔ کچھ شائقین تو دور دراز علاقوں اور پڑوسی ریجنز سے بھی پہنچے تھے۔ تاہم حیران کن طور پر اس تقریب میں کوئی بینر، کوئی پوسٹر یا بڑے پیمانے پر اشتہاری مہم دیکھنے کو نہیں ملی، جس کے باعث مقامی سطح پر یہ اجتماع نسبتاً خاموش رہا۔
بلی باگایوکو اور آسا تراؤرے کی قیادت میں نئی تحریک
اس تحریک کی قیادت معروف سماجی کارکن بلی باگایوکو کر رہے ہیں، جن کے ساتھ آسا تراؤرے بھی شریک ہیں۔ آسا تراؤرے فرانس میں پولیس تشدد کے خلاف تحریک کی ایک نمایاں آواز ہیں اور ان کے بھائی آداما تراؤرے کی موت کے بعد سے وہ ملکی سیاست میں ایک اہم حوالہ بن چکی ہیں۔ اس تقریب میں بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیز کے متعدد ارکان پارلیمان اور مقامی منتخب نمائندے بھی موجود تھے، جن میں ایلی دیوارا بھی شامل تھے۔
“آلیانس ڈیس نمبروز 10” کا نام فٹ بال کی دنیا سے لیا گیا ہے، جہاں نمبر 10 کی جرسی عام طور پر ٹیم کے سب سے تخلیقی اور اہم کھلاڑی کو دی جاتی ہے۔ اس علامت کے ذریعے تحریک کے منتظمین عوامی محلوں کے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ بھی فرانسیسی سیاست کے میدان میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو متحرک کرنے کی حکمت عملی
منتظمین کے مطابق اس اتحاد کا بنیادی ہدف ان محلوں کے ووٹرز کو رجسٹر کرنا اور انہیں انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کی ترغیب دینا ہے، جہاں روایتی سیاسی جماعتوں کی رسائی محدود رہی ہے۔ تاریخی طور پر فرانس کے ان علاقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ قومی اوسط سے کم رہا ہے، خاص طور پر صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں۔
اس موقع پر مقررین نے زور دیا کہ عوامی محلوں کے مسائل — جیسے بے روزگاری، رہائش کا بحران، تعلیمی عدم مساوات اور پولیس کے ساتھ تعلقات — کو قومی سیاسی ایجنڈے میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میلانشون کا پروگرام ان مسائل کے حل کے لیے سب سے زیادہ جامع اور عملی تجاویز پیش کرتا ہے۔
میلانشون کی امیدواری کے لیے اہم ووٹ بینک
جین لیوک میلانشون 2017 اور 2022 کے صدارتی انتخابات میں بھی عوامی محلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ 2022 کے انتخابات میں وہ پہلے مرحلے میں تیسرے نمبر پر رہے تھے اور انتہائی معمولی فرق سے دوسرے مرحلے میں پہنچنے سے محروم رہے تھے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ان محلوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ میں معمولی اضافہ بھی ہو جائے تو میلانشون کے دوسرے مرحلے میں پہنچنے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم میلانشون نے ابھی تک باضابطہ طور پر 2027 کے انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا اتحاد دراصل اسی اعلان کی زمین ہموار کرنے کے لیے بنایا گیا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس طرح کی مزید تقریبات ملک بھر میں منعقد کی جائیں گی۔
سیاسی مبصرین کی رائے
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدام بائیں بازو کی جماعت کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک پیش رفت ہے، کیونکہ عوامی محلوں کے ووٹرز کو منظم طریقے سے متحرک کرنے کی کوششیں ماضی میں اکثر غیر مربوط اور عارضی ثابت ہوئی ہیں۔ اس نئے اتحاد کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ محض انتخابی موسم تک محدود رہتا ہے یا ایک مستقل سیاسی ڈھانچے کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جا کر نوجوانوں کو ووٹر لسٹوں میں اندراج کے لیے ترغیب دیں گے اور میلانشون کے انتخابی پروگرام کو گھر گھر پہنچانے کا کام کریں گے۔
