بنگلہ دیش نے دہلی میں تعینات ایک سینئر بھارتی سفارت کار کو طلب کر کے وزیراعظم طارق رحمان کے مشیر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ مشیر کو مبینہ طور پر نئی دہلی ایئرپورٹ پر کئی گھنٹوں تک حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی، جو دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تازہ ترین سفارتی کشیدگی کا باعث بنا ہے۔
وزیر خارجہ خلیل الرحمن نے اس واقعے کو “غیر متوقع اور بدقسمتی” قرار دیا، جبکہ ڈھاکہ نے پیر کی رات دیر گئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر پون بدھے کو باضابطہ طور پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
ایئرپورٹ پر کیا ہوا؟
حکومتی حکمت عملی کے مشیر زاہد الرحمن ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے تھے جہاں انہیں آمد پر روک لیا گیا اور آگے جانے کی اجازت دینے سے قبل کئی گھنٹوں تک ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں آیا۔
دو طرفہ تعلقات کی نازک صورتحال
یہ واقعہ دو طرفہ تعلقات کے لیے ایک انتہائی حساس وقت پر پیش آیا ہے۔ اگرچہ اس سال کے اوائل میں طارق رحمان کی انتخابی کامیابی کے بعد تعلقات میں بہتری آئی تھی، لیکن 2024 کی بغاوت کے بعد سے تعلقات کشیدہ ہیں جس نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔ حسینہ اس وقت بھارت میں مقیم ہیں جبکہ بنگلہ دیش ان کی حوالگی کے لیے بارہا درخواستیں کر چکا ہے۔
سرحدی مسائل پر بھی اختلافات
دونوں ممالک کے درمیان بنگلہ دیش کے اس الزام پر بھی تنازعہ چل رہا ہے کہ بھارتی حکام طے شدہ وطن واپسی کے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر غیر دستاویزی مہاجرین کو سرحد پار دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈھاکہ کا کہنا ہے کہ سرحدی محافظوں نے حال ہی میں ایسی کئی “دھکیلنے” کی کوششوں کو ناکام بنایا اور یہ مسئلہ گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں بارڈر گارڈ بنگلہ دیش اور بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی اٹھایا۔
اگرچہ بات چیت کے دوران دونوں فریقوں نے انٹیلیجنس شیئرنگ کو مضبوط بنانے اور سرحدی گشت میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر اتفاق کیا، لیکن مہاجرین کا مسئلہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی کا ایک مستقل سبب بنا ہوا ہے۔
