پیرس: کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے شیشے میں موجود چمکدار سبز پودینے کا شربت درحقیقت شفاف ہوتا ہے اور اسے صرف دھوکہ دینے کے لیے رنگا گیا ہے؟ فوڈ پروڈکٹس کا تجزیہ کرنے والی معروف ایپلی کیشن ’یوکا‘ نے انکشاف کیا ہے کہ فرانس میں فروخت ہونے والے 65 فیصد پودینے کے شربتوں میں ایک متنازعہ مصنوعی رنگ ’بریلیئنٹ بلیو ایف سی ایف‘ (E133) شامل کیا جاتا ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف مصنوعات کو بصری طور پر پرکشش بنانا ہے۔
جب ذائقے کے بجائے رنگ کو اہمیت دی جائے
یوکا ایپ کی جانب سے منگل کو شروع کی گئی اس بیداری مہم میں انکشاف کیا گیا کہ صنعتی پیمانے پر تیار کیے جانے والے پودینے کے شربتوں میں پودینے کی پتیاں استعمال نہیں کی جاتیں، بلکہ پودے کے مرکبات سے حاصل کردہ قدرتی طور پر بے رنگ یا زردی مائل خوشبوئیں استعمال ہوتی ہیں۔ مینوفیکچررز صارفین کو یہ وہم دینے کے لیے کہ سبز رنگ پودینے کی علامت ہے، مصنوعی نیلا رنگ E133 شامل کرتے ہیں تاکہ شربت گہرا سبز دکھائی دے۔
یہ رنگ، جسے ’بریلیئنٹ بلیو‘ کہا جاتا ہے، کوئی غذائی افادیت نہیں رکھتا اور نہ ہی اسے محفوظ کرنے میں کوئی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ محض ایک کاسمیٹک اضافہ ہے۔
حت کے لیے سنگین خطرات کی گھنٹی
اگرچہ یورپی قوانین کے تحت اس کا استعمال جائز ہے، لیکن E133 طویل عرصے سے تنازعات کا شکار ہے۔ سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ اس کا تعلق بچوں میں توجہ کی کمی اور حد سے زیادہ حرکت (ہائپر ایکٹیویٹی) جیسے امراض سے ہو سکتا ہے۔ کچھ تحقیقات میں یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ یہ ڈی این اے کو نقصان پہنچانے اور خلیات کی بقا کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مزید برآں، اس اضافی شے کی بعض اقسام میں ایلومینیم بھی شامل ہو سکتا ہے، جو ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان، اور دمے، مرگی، اور الزائمر جیسی بیماریوں کے خطرے کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
صحت مند متبادل موجود، مگر مہنگے
یوکا نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ مارکیٹ میں بغیر رنگ کے شفاف پودینے کے شربت بھی دستیاب ہیں، لیکن یہ اکثر نامیاتی مصنوعات کی حد تک محدود ہیں اور ان کی قیمت زیادہ ہے۔ ایپ کے موازنے کے مطابق، E133 والے شربت کی اوسط قیمت 4.08 یورو فی لیٹر ہے، جبکہ بغیر رنگ والے شربت کی قیمت 6.14 یورو فی لیٹر ہے، یعنی 2.05 یورو فی لیٹر کا فرق۔
مارکیٹ کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہونے والی ’تیسیر‘ کا بغیر رنگ والا پودینے کا شربت اس کی رنگین قسم سے 23 فیصد زیادہ مہنگا ہے۔
بڑے پیمانے پر تبدیلی کا مطالبہ
یوکا کا موقف ہے کہ قیمتوں میں یہ فرق اکثر فروخت کے حجم سے جڑا ہوتا ہے۔ ایپ نے بڑے برانڈز اور مینوفیکچررز سے براہِ راست مطالبہ کیا ہے کہ وہ E133 کا استعمال فوری طور پر بند کریں اور ان صحت مند شفاف متبادلات کو عام کریں، ساتھ ہی صارفین پر کوئی نمایاں اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر انہیں سب کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ یوکا نے کھانے پینے کی مصنوعات میں غیر ضروری اضافی اشیاء کے خلاف آواز بلند کی ہو، اس سے قبل وہ گوشت کی مصنوعات میں نائٹرائٹس کے خلاف بھی مہم چلا چکی ہے۔
