# فرانس کا متنازع مرکاٹر نقشہ ترک کرنے کا اعلان، افریقہ کا حقیقی حجم دنیا کے سامنے آئے گا
پیرس: فرانس نے جمعے کے روز باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا کے نقشوں میں استعمال ہونے والی روایتی ‘مرکاٹر پروجیکشن’ کو ترک کر دے گا۔ اس فیصلے کا مقصد براعظموں کے حقیقی رقبے اور تناسب کو زیادہ درست طریقے سے پیش کرنا ہے، جس سے یورپ، امریکہ اور روس جیسے ممالک کی ظاہری شکل میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
فرانسیسی وزیر برائے یورپی اور خارجہ امور، ژاں نوئل باروٹ نے پیرس میں ‘لا فابریک ڈی لا ڈپلومیسی’ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “ہم مرکاٹر پروجیکشن کو ترک کر کے ایسی نمائندگی اپنائیں گے جو حقیقی رقبے کے لحاظ سے زیادہ درست ہو اور سائنسدانوں اور ماہرینِ نقشہ نگاری کے اصولوں کے مطابق ہو۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری ڈپلومیسی کو دو محاذوں پر لڑنا ہے: اپنا بیانیہ پیش کرنا اور دنیا کی درست تصویر کشی کو یقینی بنانا۔ یہ تحریفات لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرتی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم انہیں درست کریں۔”
## ٹوگو کی قیادت میں اقوام متحدہ میں قرارداد
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹوگو اور افریقی یونین کی طرف سے اقوام متحدہ میں ایک مسودہ قرارداد پیش کیا جا رہا ہے، جس کی فرانس بھی حمایت کر رہا ہے۔ اس قرارداد میں دنیا کے نقشوں میں ایسی پروجیکشنز کے استعمال پر زور دیا گیا ہے جو براعظموں کے حقیقی حجم کو زیادہ درست طریقے سے ظاہر کریں۔
ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے اس مہم کو ‘کریکٹ دی میپ’ (نقشہ درست کریں) کا نام دیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “نقشہ کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتا۔” ان کے مطابق، نقشے اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ لوگ مختلف ممالک اور براعظموں کو کیسے دیکھتے ہیں اور یہ تصورات بچپن سے ہی ذہنوں میں نقش ہو جاتے ہیں۔ ڈوسی نے واضح کیا کہ “یہ کوئی سیاسی بحث نہیں بلکہ سائنسی بحث ہے۔ افریقہ کسی خصوصی رعایت کا طلبگار نہیں، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی حقیقت اور بین الاقوامی نظام میں اس کے کردار کو تسلیم کیا جائے۔”
## افریقہ حقیقت میں گرین لینڈ سے 14 گنا بڑا
سولہویں صدی میں فلیمش نقشہ نگار جیرارڈس مرکاٹر کی بنائی گئی یہ پروجیکشن دراصل بحری سفر کی سہولت کے لیے تیار کی گئی تھی۔ تاہم، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ خط استوا سے دور واقع علاقے نقشے پر حقیقی حجم سے کہیں بڑے دکھائی دیتے ہیں۔
اس کی سب سے واضح مثال افریقہ اور گرین لینڈ ہے۔ مرکاٹر نقشے پر یہ دونوں تقریباً ایک جتنے بڑے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں افریقہ گرین لینڈ سے تقریباً 14 گنا بڑا ہے۔ مؤرخین اور جغرافیہ دانوں کا کہنا ہے کہ مرکاٹر نقشہ مغربی دنیا کے تصورات کی عکاسی کرتا ہے، اور کچھ کارکنان اسے ‘نقشہ نگاری کی استعماریت’ کا نام دیتے ہیں۔
فرانس کی جانب سے اپنائی جانے والی نئی پروجیکشن ‘ایککرٹ IV’ ہے، جبکہ ٹوگو ‘ایکول ارتھ 2018’ کی حمایت کر رہا ہے۔ دونوں پروجیکشنز کا مقصد براعظموں کے رقبے کو زیادہ حقیقت کے قریب پیش کرنا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی فرانس اور افریقی ممالک کے درمیان تعلقات کی نئی روح کی عکاسی کرتی ہے۔ جیسا کہ باروٹ نے کہا، “نقشہ تبدیل کرنے سے دنیا نہیں بدل جائے گی، لیکن غلط تصویر کشی کو درست کرنا اپنے آپ میں ایک حقیقت کی خدمت ہے۔”
