پیرس: فرانس نے بدھ کے روز ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے امدادی موت (Right to Die) کا قانون سرکاری جریدے میں شائع کر دیا۔ صدر ایمانوئل میکرون نے اس قانون کی توثیق کی، جس کے بعد کئی برسوں کی بحث و مباحثے کا طویل سلسلہ ایک اہم موڑ پر پہنچ گیا۔
یہ قانون، جسے گزشتہ ہفتے آئینی کونسل نے چند تحفظات کے ساتھ منظور کیا تھا، بعض شدید بیمار مریضوں کو مخصوص شرائط کے تحت اپنی زندگی کے خاتمے کا حق فراہم کرتا ہے۔ قانون کے تحت مریض کسی طبی عملے کی موجودگی میں خود کو مہلک دوا دے سکتا ہے۔
قانون کی اہم شرائط اور اہلیت کا معیار
اس قانون سے فائدہ اٹھانے کے لیے مریض کو درج ذیل شرائط پوری کرنی ہوں گی:
- مریض کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے۔
- وہ فرانسیسی شہری ہو یا طویل عرصے سے فرانس کا رہائشی ہو۔
- وہ کسی ایسی “سنگین اور لاعلاج” بیماری میں مبتلا ہو جو آخری یا “پیش رفتہ” مرحلے میں ہو۔
- مریض کو ناقابل برداشت جسمانی تکلیف کا سامنا ہو۔
- وہ آخری لمحے تک باخبر فیصلہ کرنے کی ذہنی صلاحیت رکھتا ہو۔
اگر مریض جسمانی طور پر خود دوا لینے سے قاصر ہو تو طبی عملہ یہ ذمہ داری ادا کر سکتا ہے۔ اہلیت کے تعین کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جس کی قیادت ایک ڈاکٹر کرتا ہے لیکن اس میں دیگر طبی ماہرین سے بھی مشاورت لازمی ہوگی۔
نفاذ کے لیے انتظار: حکومتی احکام کی ضرورت
اگرچہ قانون پارلیمنٹ سے وسط جولائی میں حتمی طور پر منظور ہو چکا تھا، لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے حکومت کو ضروری اطلاقی احکام (Decrees) جاری کرنے ہوں گے۔ یہ احکام جاری ہونے کے بعد ہی طبی عملہ اس قانون کو عملی جامہ پہنانے کے قابل ہو گا۔
دنیا میں صرف چند ممالک نے ایسا حق فراہم کیا ہے، جن میں بیلجیئم، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، کینیڈا اور یوراگوئے شامل ہیں۔ فرانس اب اس محدود فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
آئینی کونسل کے تحفظات
قانون کی منظوری کے دوران آئینی کونسل نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا تھا، جن میں طبی عملے کے لیے “ضمیر کی آزادی” (Conscience Clause) کی شق اور زیر سرپرستی یا نگرانی والے مریضوں سے متعلق امور شامل تھے۔ ان تحفظات کے باوجود قانون کی بنیادی دفعات کو برقرار رکھا گیا۔
