علی شمخانی کا واضح پیغام: دفاعی صلاحیت پر بات چیت ممکن نہیں
تہران: ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو ایک بار پھر ’ریڈ لائن‘ قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر کسی قسم کے مذاکرات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے سینئر مشیر علی شمخانی نے عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس موقف کی واضح تشریح کی۔
فوجی چیلنج کا ’فیصلہ کن جواب‘ دینے کی وارننگ
شمخانی نے زور دے کر کہا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل الرٹ پر ہیں اور کسی بھی فوجی کارروائی کا ’فیصلہ کن اور مناسب‘ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے بیرونی طاقتوں کو خبردار کیا کہ علاقے میں کسی بھی ’مس کیلکولیشن‘ کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔
مذاکرات کی شرط: حقیقت پسندی اور غیر ضروری مطالبات سے گریز
سینئر ایرانی رہنما نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مذاکرات حقیقت پسندانہ بنیادوں پر ہوں اور غیر ضروری مطالبات پیش نہ کیے جائیں تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ایران کے جوہری معاہدے سے باہر رہنے پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
علاقائی تناؤ کے پس منظر میں اہم بیان
یہ واضح موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔ ایرانی دفاعی اور میزائل صلاحیت ہمیشہ سے بین الاقوامی مذاکرات کا ایک اہم اور متنازعہ نقطہ رہی ہے۔ شمخانی کے بیان سے ایران کی طرف سے اس معاملے پر اپنی پوزیشن میں کوئی نرمی نہ آنے کا واضح اشارہ ملتا ہے۔
