امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران پر عائد پابندیوں میں سختی کرنے کے حوالے سے ایک میمورنڈم پر دستخط کرتے وقت ٹرمپ کا لہجہ اس دستاویز کی تحریر سے متضاد نظر آیا۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نئے احکامات پر دستخط کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس آرڈر کی کئی شقوں پر عملدرآمد نہیں کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے اپنے پیشرو جو بائیڈن اور اپنے پہلے دور صدارت کے برعکس اس بار کسی ایگزیکٹیو آرڈر کی بجائے قومی سلامتی پر صدارتی میمورینڈم کو ترجیح دی۔ اس میمورینڈم کی قانونی حیثیت موجود ہے، لیکن یہ ایگزیکٹیو آرڈ کے مقابلے میں کمزور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ اس میمورینڈم کو آسانی سے واپس لے سکتے ہیں، جو انہیں مذاکرات کے ذریعے سفارتی حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
میمورینڈم پر دستخط کرتے وقت ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اور اگر اس حوالے سے پہلا قدم امریکہ کی طرف سے بڑھایا جائے تو انہیں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔ انہوں نے بیان دیا کہ وہ ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، بلکہ ان کی توجہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے پر ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران ایک کامیاب ملک بنے، لیکن جوہری ہتھیاروں کے بغیر۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے بارے میں یہ اطلاعات کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو تقسیم کرنا چاہتا ہے، مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ ٹرمپ نے ایک مستند جوہری امن معاہدے کی ضرورت پر زور دیا، جس کے ذریعے ایران کو آگے بڑھنے اور خوشحال ہونے کا موقع ملے۔
دوسری جانب، ایرانی حکام نے ٹرمپ کے بیان پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر بنیادی مسئلہ ایران کی جوہری صلاحیت ہے تو یہ قابل حل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ایجنڈے میں امریکی صدر کے ساتھ ملاقات شامل نہیں ہے۔
ایران میں مسعود پزشکیان کی کامیابی کے بعد براہ راست مذاکرات کے حامی دوبارہ اقتدار میں آ گئے ہیں۔ ٹرمپ کے میمورینڈم میں ایران کے خلاف پابندیوں کو مزید سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ ایرانی تیل کی فروخت کو کم کیا جا سکے۔ اس میمورینڈم میں خلیجی ممالک کو ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون منقطع کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ہدایت بھی شامل ہے۔
یہ میمورینڈم ایران کی بیلسٹک میزائل پروگرام کو روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے اور اس میں ایرانی ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی وزارت دفاع کو اختیارات دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ کے اس اقدام کا مقصد ایران کے علاقائی اتحادیوں کو بھی دباؤ میں لانا ہے۔
ٹرمپ کے دستخط کردہ میمورنڈم میں موجود ہدایات اگرچہ سخت ہیں، مگر ان کا لہجہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ اقدام ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرے گا یا نہیں۔
