بشکیک: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکہ جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی شرائط کا احترام کرے تو ایران فوری طور پر اسی نوعیت کے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھٹے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور آبنائے ہرمز عالمی بحران کا مرکز بنا ہوا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ایرانی خبر رساں ایجنسی ایسنا کے حوالے سے پیزشکیان نے کہا کہ تہران اپنے وعدوں پر قائم ہے لیکن امریکہ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں ایران خاموش نہیں رہے گا۔ یہ بیان ایسے موقع پر آیا جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن اس ہفتے ایران کے کسی بینک پر پابندیاں عائد کرنے کا امکان رکھتا ہے۔
جنگ کا چھٹا مہینہ: ہرمز میں کشیدگی برقرار
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “بڑی جنگی کارروائیوں” کا اعلان کیا تھا۔ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے اور مارچ میں ان کے بیٹے مجتبیٰ نے قیادت سنبھالی تھی۔ اپریل میں دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا اور پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے، لیکن جون میں ابتدائی معاہدے کے باوجود جولائی میں لڑائی دوبارہ شروع ہو گئی۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد پانچ کے قریب رہی، جو گزشتہ دس دنوں کی اوسط چودہ سے کافی کم ہے۔ کے پلر کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں کوئی مائع ایندھن بردار ٹینکر شامل نہیں تھا، جو عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی محاذ: تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور نئی پابندیاں
جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 56 سینٹ بڑھ کر 91.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 83 سینٹ اضافے کے ساتھ 86.59 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔ یورپی مرکزی بینک کے پالیسی ساز اولی ریہن نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں “طویل فرسودگی کی جنگ” یورو زون میں افراط زر کو بلند رکھ سکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ پابندیوں کے باوجود ایران کے پاس کافی غیر ملکی زرمبادلہ موجود ہے اور مرکزی بینک زرمبادلہ مارکیٹ میں دو ارب ڈالر تک انجیکٹ کرنے کے لیے تیار ہے۔
عالمی سفارت کاری: پاکستان کا تعمیری کردار اور قطر کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں پاکستان کے “تعمیری اور اصولی کردار” کو سراہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اجلاس سے خطاب میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کو خطے میں پائیدار امن کا “سب سے مؤثر اور دیرپا راستہ” قرار دیا۔
قطر نے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تازہ جھڑپوں کے بعد مذاکرات کی راہ پر واپس آئیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ مسئلے کو حل نہ کرنا اور آبنائے کی بندش کو معمول پر لانے کی کوشش کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گی۔
ایران کا فوجی مؤقف اور یورپ کو انتباہ
ایرانی فوج کے جنرل اسٹاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو کسی بھی بنیاد پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے ہمسایوں کی قومی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے بھی کسی جارحیت کا کہیں زیادہ بھاری جواب دے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یورپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اب “اسٹریٹجک خودمختاری” کی بات نہیں کر سکتا جبکہ وہ صرف واشنگٹن کے احکامات پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے اعتراف کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت حاصل نہیں ہوئی۔
انسانی بحران اور فوجی قیادت میں تبدیلیاں
دریں اثنا، غزہ میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں تین بچوں سمیت کم از کم چار افراد شہید ہو گئے ہیں۔ طبی حکام کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں کٹیبا کے علاقے میں کم از کم بارہ میزائل داغے، جہاں بے گھر خاندانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوج کے سیکرٹری ڈین ڈریسکول نے استعفیٰ پیش کر دیا ہے، جو وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ تناؤ کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ میں سینئر فوجی قیادت کی تازہ ترین رخصتی ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کے عملے کے لیے تھائی لینڈ میں پہلی بندرگاہی چھٹی کا موقع ہے، جو گزشتہ 280 دنوں میں پہلی بار ہے۔ جہاز کے عملے کے لیے ذہنی صحت کے مسائل اور خودکشی کی کوششوں کی اطلاعات نے امریکہ میں جنگ ایران پر تنقید کو مزید تقویت دی ہے۔
