بشکیک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کی جانب سے جون 2026 کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مخلصانہ عملدرآمد ہی تنازعے کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔
یہ بات انہوں نے منگل کو بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کے اجلاس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہی۔ نائب وزیراعظم نے اس موقع پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ناگزیر ہے۔
پاک ایران ملاقات میں علاقائی امن پر گفتگو
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت، توانائی کے منصوبوں اور سرحدی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔
ازبکستان کے ساتھ شراکت داری پر اتفاق
اس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایس سی او اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان قریبی اور بڑھتی ہوئی شراکت داری کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے ٹرانس افغان ریلوے منصوبے اور علاقائی رابطوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس
بشکیک میں منعقدہ ایس سی او سربراہان مملکت کا اجلاس علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور انسداد دہشت گردی جیسے اہم امور پر مرکوز ہے۔ پاکستان اس تنظیم کا فعال رکن ہے اور علاقائی امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش پیش رہا ہے۔
اسحاق ڈار کی یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے پرامن حل کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
