غزہ کی پٹی میں سولہ ماہ کی قید کے بعد تین اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ رہائی اسرائیل اور حماس کے درمیان چھٹے قیدی تبادلے کے تحت عمل میں آئی ہے۔ اس معاہدے کے مطابق 369 فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کیا جانا ہے۔
یہ اسرائیلی یرغمالی، ساشا ٹروفانوف، سگی ڈیکل چین، اور یائر ہورن، جو 7 اکتوبر کو نیر اوز کیبوز سے اغوا کیے گئے تھے، خان یونس میں ریڈ کراس کے حوالے کیے گئے۔ انہیں اسرائیلی فوج کی جانب سے وطن واپس لایا گیا۔ ان کی رہائی پر ان کے خاندان اور دوستوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
اسی دوران، فلسطینی قیدیوں کو لے جانے والا ایک بس قافلہ رام اللہ پہنچا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ یہ قیدی اسرائیل کی جنوبی نیگیو جیل سے رہا کیے گئے ہیں۔
ریڈ کراس نے یرغمالیوں کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور زور دیا ہے کہ رہائی کے عمل کو عزت کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ سابقہ رہائی کے دوران، حماس نے یرغمالیوں کو کمزوری کی حالت میں عوام کے سامنے پیش کیا تھا، جس پر اسرائیل نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
حماس اور اسرائیل کے درمیان یہ معاہدہ ایک نازک صورتحال کے تحت ہوا ہے، کیونکہ فریقین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ مستقبل قریب میں مذید مذاکرات کا امکان ہے، جہاں معاہدے کی دوسری مراحل پر بات چیت کی جائے گی۔
لبنان میں، حزب اللہ کے حامیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے قافلے پر حملے کے بعد، لبنانی صدر جوزف عون نے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ اس حملے میں اقوام متحدہ کے کمانڈر سمیت دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان کی سیکیورٹی فورسز نے امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔
