بالی ووڈ کے معروف اداکار راجپال یادیو نے دبئی میں ایک پاکستانی یوٹیوبر کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی فلمی زندگی اور پاکستان کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس پوڈ کاسٹ کے دوران انہوں نے شوبز انڈسٹری اور پاکستان کے حوالے سے مختلف موضوعات پر بات کی۔
شو کے میزبان نے جب ان سے پاکستان مخالف فلموں کے بارے میں سوال کیا تو راجپال یادیو نے کہا کہ یہ ایک حساس موضوع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں ہر سال تقریباً 500 فلمیں بنتی ہیں جن میں کچھ انٹرٹینمنٹ اور کچھ ایکشن فلمیں شامل ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلموں میں کام کرنے والے انسان ہیں اور ان کے کام میں ان کے جذبات کی عکاسی ہوتی ہے۔
راجپال یادیو نے مزید کہا کہ ان 500 فلموں میں سے محض دو یا تین فلمیں ایسی ہوتی ہیں جن میں تاریخ یا تنازع پر مبنی مواد ہوتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایسی ہی ایک فلم میں کام کیا تھا، لیکن کامیابی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کسی ایسی فلم کا حصہ نہیں بنیں گے جو پاکستان یا بھارت کے جذبات کو مجروح کرے۔
پاکستانی لیجنڈ کامیڈین عمر شریف اور معین اختر پر گفتگو کرتے ہوئے راجپال یادیو نے کہا کہ یہ دونوں اپنے فن کے شہنشاہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ عمر شریف کی آڈیو کیسٹس سنتے تھے اور یہ دونوں فنکار قدرتی طور پر تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔
راجپال یادیو کی یہ گفتگو دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو سمجھنے اور انہیں مزید بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے خیالات نے دونوں ممالک کے فنکاروں کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی اُمید کو جنم دیا ہے۔
