منیلا: پاکستانی ماڈل اور ماہر نفسیات مصباح ارشد کو مس یونیورس پاکستان کا تاج پہنا دیا گیا، جس کے ساتھ وہ اس بین الاقوامی مقابلہ حسن میں ملک کی نمائندگی کرنے والی چوتھی پاکستانی خاتون بن گئیں۔
یہ اعلان مس یونیورس پیجینٹ کے لیے سخت مسابقتی انتخابی عمل کے بعد کیا گیا۔ فلپائن میں منعقدہ ایک تقریب میں پاکستان فرنچائز کے مالک جوش یوگن اور سابقہ ٹائٹل ہولڈر روما ریاض نے مصباح ارشد کو سیش پہنایا۔
تنظیم نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں مصباح ارشد کو یہ اعزاز دیے جانے کا لمحہ قید کیا گیا ہے۔
’یہ سفر ایک حقیقی انعام ہے‘
اپنے سفر پر غور کرتے ہوئے مصباح ارشد نے اس تجربے کو ایک “حقیقی انعام” قرار دیا اور کہا کہ اس نے انہیں انسانیت کے بارے میں قیمتی سبق سکھائے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، “راستے میں ملنے والی خوبصورت روحیں۔ یہ سب کچھ آپ کو گہرائی سے انسان ہونے کا احساس دلاتا ہے۔”
مصباح ارشد کا کہنا تھا کہ وہ اس کامیابی کو اپنے سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز سمجھتی ہیں۔
انہوں نے لکھا، “شکر ہے، ہمارا سفر یہاں ختم نہیں ہوا۔ یہ تو ابھی شروع ہوا ہے،” اور مزید کہا کہ وہ لمحے میں جینا چاہتی ہیں اور تجربے کے ہر مرحلے سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں۔
دس سالہ خودی کا مشکل سوال
انتخابی عمل کے دوران اداکار بیلی مے نے مصباح ارشد سے پوچھا تھا کہ اگر وہ اپنی 10 سالہ اور 80 سالہ خودی کے ساتھ کمرے میں ہوں تو کون زیادہ مشکل سوال پوچھے گا؟
مصباح نے جواب دیا کہ ان کی 10 سالہ خودی زیادہ مشکل سوال پوچھے گی، خاص طور پر یہ کہ ان کی زندگی کیسی گزری ہے۔
نفسیات کی تعلیم حاصل کرنے والی مصباح ارشد نے کہا کہ وہ اپنی چھوٹی خودی کو بتائیں گی کہ زندگی ایک خوبصورت چکر ہے جسے صرف قبول ہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ بھرپور طریقے سے جینا چاہیے۔
اپنے فتح کے پیغام میں نئی مس یونیورس پاکستان نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کا ساتھ دیا اور ان کے سفر میں اپنا حصہ ڈالا۔
