اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے پمز منتقل کیے جانے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں طبی معائنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ انہوں نے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر عدالتی احکامات کی تعمیل مشکل ہو جائے تو جمہوریت کیسے چل سکتی ہے۔
سیاسی مسائل کا حل مذاکرات سے نکالیں گے، گوہر
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم سیاسی مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے لیکن ایسے حالات میں بامقصد مذاکرات ممکن نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کو بغیر مناسب تفصیلات فراہم کیے دوسرے ہسپتال لے جانے کا فیصلہ غیر متوقع تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا اور اپنی جماعت کی جانب سے سیاسی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا۔
سپریم کورٹ کا حکم اور حکومتی اقدام
یہ بیان سپریم کورٹ کے تین روز قبل جاری کردہ حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں عمران خان کو طبی معائنے اور جامع چیک اپ کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
تاہم حکومت نے اس کے برعکس انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد رات گئے انہیں واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر کہا کہ عمران خان کی طبیعت ٹھیک ہے۔
