اسلام آباد: پاکستان نے غزہ امن منصوبے کے نفاذ کے لیے قیام امن بورڈ کے تحت سامنے آنے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ یہ اقدامات تمام وعدوں کی مکمل تکمیل کا باعث بنیں گے۔
پاکستان نے اس سلسلے میں ثالثی کرنے والے ممالک بالخصوص امریکہ، مصر، قطر اور ترکی کی مسلسل کوششوں کو سراہا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان کو توقع ہے کہ یہ پیش رفت غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام معاہدوں کے مکمل نفاذ پر منتج ہوگی۔>
فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق پر زور
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو بھروسہ ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے اپنے حق خودارادیت کے حصول میں معاون ثابت ہوں گی۔ یہ عمل بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی جواز اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک قابل اعتماد اور وقت کی پابندیوں پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔
بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ اس عمل کا حتمی نتیجہ ایک آزاد، خودمختار، مربوط اور قابل عمل ریاست فلسطین کا قیام ہونا چاہیے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
علاقائی امن کے لیے پاکستان کا عزم
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی کاز کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور دو ریاستی حل کو ہی تنازعے کا واحد قابل عمل اور منصفانہ حل قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان میں ثالثی کرنے والے ممالک کے کردار کو خطے میں استحکام لانے کے لیے اہم قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
