کھٹمنڈو: نیپال کے شمالی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی 4 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک 1,114 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 3,916 افراد کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ دریاؤں کا تیز بہاؤ لاشوں کو کئی کلومیٹر دور لے گیا ہے جس کی وجہ سے شناخت کا عمل انتہائی پیچیدہ ہو گیا ہے۔
26 اگست کو آنے والے سیلاب نے وادیوں میں موجود مکانات، سڑکیں اور پل مکمل طور پر بہا دیے۔ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع سے تقریباً 200 کلومیٹر دور چٹوان ضلع میں سیکڑوں لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 30 اگست تک تقریباً 250 لاشیں شناخت کے انتظار میں تھیں۔
دریاؤں کا بہاؤ لاشوں کو دور لے جا رہا ہے
سیلاب کا پانی لاشوں کو انتہائی دور دراز علاقوں تک بہا کر لے گیا ہے۔ شمالی وادی میں لاپتہ ہونے والا شخص کئی دنوں بعد کسی دوسرے ضلع میں برآمد ہو سکتا ہے، جس کے پاس شناخت کے لیے کوئی دستاویز موجود نہیں ہوتی۔ اسی لیے امدادی ٹیمیں صرف تباہ شدہ دیہاتوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ دریاؤں، کیچڑ سے بھرے علاقوں اور ملبے کے ڈھیروں کی تلاشی لے رہی ہیں۔
مشکل ترین علاقوں تک رسائی کے لیے ہیلی کاپٹر اور ڈرون کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ان تمام علاقوں کی مکمل تلاشی نہیں لے لی جاتی، کچھ لاپتہ افراد کی قسمت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
سرنگوں میں پھنسے افراد کی تلاش جاری
آبی بجلی کے منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے مزدوروں کی تلاش کے لیے خصوصی طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔ ڈرون پائلٹ منیش مہارجن نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ سرنگوں میں پھنسے افراد کو آواز دینے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ جگہوں پر موسیقی بھی بجائی گئی اور جواب کا انتظار کیا گیا۔ یہ طریقہ چند مواقع پر کارگر ثابت ہوا اور کچھ افراد کو تلاش کرنے میں مدد ملی۔
حکام کے مطابق 279 افراد کو آبی بجلی کے منصوبوں کے ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے لیکن کم از کم 639 افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن میں سے کچھ سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔
زندہ بچ جانے والوں کی امید کم ہوتی جا رہی ہے
بھارت، چین اور امریکہ سے آئی خصوصی امدادی ٹیمیں سرنگوں میں بچاؤ کی کوششوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ امریکی ٹیم کے رکن فیرن کول نے بتایا کہ زندگی کے آثار معلوم کرنے کے لیے جدید سننے والے آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشر کھنال نے کہا کہ معجزے ہوتے ہیں اور وہ امید نہیں چھوڑ رہے۔ تاہم ریٹائرڈ فوجی جنرل بنوج بسنت کا کہنا ہے کہ سیلاب کی نوعیت اور متاثرہ علاقے کو دیکھتے ہوئے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے امکانات روز بروز کم ہو رہے ہیں۔
لاشوں کی شناخت میں ڈی این اے ٹیسٹ کا استعمال
بہت سی لاشیں کئی دنوں تک پانی اور کیچڑ میں رہنے کی وجہ سے شدید حد تک بگڑ چکی ہیں۔ کچھ لاشیں مسخ شدہ حالت میں ملی ہیں جس کی وجہ سے چہرے یا کپڑوں سے شناخت ممکن نہیں رہی۔ کھٹمنڈو پوسٹ کے مطابق ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں ایک ہی لاش کو متعدد خاندانوں نے اپنا رشتہ دار سمجھ لیا۔
ان حالات میں حکام نے ڈی این اے ٹیسٹ کا سہارا لیا ہے۔ جن لاشوں کی فوری شناخت ممکن نہیں ہو پاتی، ان سے نمونے لیے جا رہے ہیں۔ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں سے بھی خون کے نمونے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ موازنہ کیا جا سکے۔
فوج کے اہلکار رمیشور ادھیکاری نے دی گارڈین کو بتایا کہ لوگ پورے ملک سے خون کے نمونے دینے آ رہے ہیں۔ نیپال حکومت نے غیر ملکی ماہرین کی مدد بھی طلب کی ہے جو فرانزک شناخت میں مہارت رکھتے ہیں۔
شناخت سے پہلے لاشوں کی تدفین پر غم و غصہ
برآمد ہونے والی لاشوں کی تعداد مردہ خانوں کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ لاشوں کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے چٹوان ضلع میں کچھ نامعلوم لاشوں کو عارضی طور پر دفن کر دیا گیا ہے۔ تدفین سے پہلے ان کے ڈی این اے نمونے محفوظ کر لیے گئے ہیں اور معلومات درج کر لی گئی ہیں۔
حکومت نے وضاحت کی ہے کہ شناخت ہو جانے کے بعد ان لاشوں کو نکالا جا سکتا ہے تاکہ خاندان آخری رسومات ادا کر سکیں۔ تاہم اس فیصلے پر ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ہندو روایات میں آخری رسومات میں جلانے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
علامتی آخری رسومات کا آغاز
کچھ خاندان، اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ملنے اور امید ختم ہو جانے کے بعد، علامتی آخری رسومات ادا کرنا شروع کر چکے ہیں۔ کھٹمنڈو کے یونیورسٹی ہسپتال کے باہر 25 میٹر سے زائد لمبی دیوار پر لاپتہ نیپالی اور غیر ملکی شہریوں کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔
ڈیبو سپکوٹا نامی خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں اب اپنے رشتہ داروں کے زندہ ہونے کی کوئی امید نہیں ہے۔ وہ صرف ان کی لاشیں تلاش کرنے کی امید میں ہسپتال آئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تعداد کبھی بھی مکمل طور پر صفر تک نہیں پہنچ سکتی کیونکہ بہت سی لاشیں ملبے اور کیچڑ کے ٹنوں تلے دبی ہوئی ہیں جنہیں تلاش کرنے میں کافی وقت لگے گا۔
