پاک فوج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے سرحد پر اشتعال انگیزی کے جواب میں چمن سیکٹر میں متعدد افغان ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائی کی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے سرحد پار سے جارحیت کے خلاف ‘مکمل کارروائی’ جاری رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں دشمن کی کئی چوکیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔
چمن سیکٹر میں جوابی کارروائی
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوجیوں نے آپریشن کے دوران سرشن، المرجان اور ایدھی چوکیوں کے علاوہ ایک افغان گاڑی اور دیگر تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردوں اور ان کے معاونین کی سازشوں کو ناکام بنا دیں گی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ “دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کی سازشیں خاک میں مل جائیں گی” اور آپریشن غضب للحق اپنے تمام اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
افغان طالبان کے 796 اہلکار ہلاک، 286 چوکیاں تباہ
وزیر اطلاعات اطہر اللہ تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران طالبان حکومت کے 796 اہلکار اور دہشت گرد ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر افغان طالبان کے نقصانات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی 286 چوکیاں تباہ اور 44 پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کابل حکومت کے 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپیں اور ڈرون بھی تباہ کر دیے ہیں۔
باجوڑ میں شہری ہلاکتیں
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں بھارت کی حمایت یافتہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے سرحد پار گولہ باری میں ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید ہو گئے جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ گولہ باری کا نشانہ کٹکوٹ سرحدی علاقے میں واقع ملک شاہین گاؤں بنایا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس غیر اشتعال انگیز کارروائی میں تین دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت فتنہ الخوارج کے ایک گروپ کو پاکستان میں دراندازی کرانے کی کوشش کر رہی تھی تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔
فوجی قادت کا عزم
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں عسکری قیادت نے آپریشن غضب للحق کو اس وقت تک جاری رکھنے کا عزم کیا ہے جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم نہیں ہو جاتیں اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوتی۔
چین کی ثالثی میں امن مذاکرات
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پاکستان اور افغانستان نے ارومچی میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوران اس تنازعے کے جامع حل کی تلاش پر اتفاق کیا ہے جو گزشتہ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان شروع ہوا تھا۔ ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ دونوں ممالک نے چین میں ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ایسے اقدامات نہیں اٹھائیں گے جو صورتحال کو بڑھاوا یا پیچیدہ بنا سکیں۔
پاکستان نے کنڑ حملے کی تردید کردی
پاکستان نے افغان میڈیا کی جانب سے کنڑ صوبے میں میزائل اور جیٹ حملوں کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ وزارت اطلاعات کے حقائق کی جانچ کرنے والے ایکس ہینڈل نے ان خبروں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سید جمال الدین افغان یونیورسٹی یا قریبی رہائشی علاقوں پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ اس نے کہا کہ پاکستان درست اور انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیاں کرتا ہے اور افغان میڈیا پر الزام لگایا کہ وہ “دہشت گرد گروپوں اور فتنہ الخوارج جیسے پراکسیوں کی حمایت کو چھپانے کے لیے غلط معلومات پھیلا رہا ہے جسے ہندوستانی میڈیا نے بڑھاوا دیا ہے”۔
