اسلام آباد: بھارتی افواج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جاری جارحیت کے نتیجے میں پاکستان نے پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب بھارتی حکام نے تین طیاروں کے اپنے علاقے میں گرنے کی تصدیق کی۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کے حملوں کے نتیجے میں 31 افراد جاں بحق اور 57 زخمی ہوئے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جن میں پنجاب کے احمد پور ایسٹ، مریدکے، سیالکوٹ، اور شکر گڑھ شامل ہیں، جبکہ آزاد کشمیر کے مظفرآباد اور کوٹلی میں بھی نشانہ بنایا گیا۔
مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر مدثر فاروق نے بتایا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا انٹیک اسٹرکچر بھی بھارتی حملوں کی زد میں آیا، جس سے اس کے انٹیک گیٹس اور ہائیڈرولک پروٹیکشن یونٹ کو نقصان پہنچا۔ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جنیوا کنونشنز کے تحت ایسے حملے ممنوع ہیں جو عوام کی بقا کے لئے ضروری چیزوں کو نقصان پہنچائیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک سے فوری طور پر کشیدگی ختم کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ دونوں ممالک کی مدد کر سکتے ہیں تو وہ حاضر ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بات کرتے ہوئے پاکستانی پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔
دونوں ممالک کے سلامتی مشیروں کے درمیان رابطہ قائم ہونے کی تصدیق بھی کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی چینلز کھلے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی جنوبی ایشیا میں کسی فوجی تنازعے کی مخالفت کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ ضبط و تحمل کی اپیل کی ہے۔
بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حملوں کا مقصد “دہشت گرد کیمپوں” کو نشانہ بنانا تھا جو ان کے بقول بھارت پر مزید حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔ تاہم، پاکستان کے دعوے کے مطابق بھارتی طیارے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر گرائے گئے۔
آزاد کشمیر میں صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت نے ہنگامی ردعمل مرکز قائم کیا ہے، جبکہ تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ مظفرآباد میں ایک مسجد پر حملے کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے مبصرین بھی وہاں پہنچے۔
یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور بین الاقوامی برادری دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اقدامات کریں۔
