اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین اور نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک میں قدرتی آفت کے باعث متعدد افراد جاں بحق اور درجنوں لاپتہ ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ چین اور نیپال میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر “انتہائی افسردہ” ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں اپنے چینی اور نیپالی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن تعاون اور امداد کی پیشکش کرتا ہے۔
پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت کا اعلان
نائب وزیراعظم نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ حکومت پاکستان قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے چین اور نیپال کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا: “ہم سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور ان امدادی ٹیموں کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں جو انتہائی مشکل حالات میں دن رات امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔”
چین اور نیپال میں تباہی کی صورتحال
چین کے جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ نیپال کے پہاڑی علاقوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات نے درجنوں دیہاتوں کو متاثر کیا ہے۔ دونوں ممالک میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں سرگرم عمل ہیں۔
علاقائی تعاون اور انسانی ہمدردی کا جذبہ
پاکستان کی جانب سے یہ اظہار یکجہتی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایشیائی خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کی بڑھتی ہوئی شدت کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ کے اثرات کے باعث جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا میں شدید بارشوں اور سیلاب کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان خود بھی 2022 کے تباہ کن سیلاب کا سامنا کر چکا ہے جس میں ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا تھا۔ اس تجربے کی روشنی میں پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
بین الاقوامی برادری سے اپیل
اسحاق ڈار کے اس بیان کو سفارتی حلقوں میں پاکستان کی جانب سے ہمسایہ اور دوست ممالک کے ساتھ یکجہتی کے مضبوط پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے خطے میں باہمی تعاون اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو فروغ ملتا ہے۔
چین اور نیپال میں امدادی کارروائیوں میں مقامی حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی امدادی ادارے بھی شریک ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور عارضی رہائش کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
