geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
June 15, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • US Directive Forces Suspension of Fable 5 and Mythos 5امریکی حکومت کے حکم پر فایبل 5 اورتھوس 5 تک رسائی معطل، اینتھروپک نے اختلاف ظاہر کردیا
    • طاہر محمود بھٹی: سانتیے کے عروج سے ٹیکس فراڈ کی سزا تک
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    صحت و تندرستی
    • Child Sleepovers Under Scrutiny After Lyhanna Caseلیہانا کیس: کیا بچوں کی سلیپ اوور پارٹیوں پر پابندی لگا دینی چاہیے؟ ماہر نے دے دیا واضح جواب
    • WHO Declares Emergency as Ebola Kills Over 80 in DR Congoکانگو میں ایبولا کی نئی وبا قابو سے باہر، ڈبلیو ایچ او نے بین الاقوامی ایمرجنسی نافذ کردی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    دلچسپ اور عجیب
    • VivaTech Takes Over Champs-Élysées for 10th Anniversaryویوا ٹیک کا دسویں سالگرہ کا جشن: شانزے لیزے پر مستقبل کی جھلک، ہیومنائیڈ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کا شو
    • JR’s Torn Pont-Neuf Installation Fully Restored After Days of Repairsپونٹ نیف پر جے آر کی ‘کاورن’ آرٹ کی تنصیب ہوا کے نقصان کے بعد مکمل طور پر بحال
    • Child Sleepovers Under Scrutiny After Lyhanna Caseلیہانا کیس: کیا بچوں کی سلیپ اوور پارٹیوں پر پابندی لگا دینی چاہیے؟ ماہر نے دے دیا واضح جواب
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • US Directive Forces Suspension of Fable 5 and Mythos 5امریکی حکومت کے حکم پر فایبل 5 اورتھوس 5 تک رسائی معطل، اینتھروپک نے اختلاف ظاہر کردیا
    • When AI Companions Turn Possessive: A Toxic Trap?جب مصنوعی ذہانت محبت میں پاگل ہو جائے: ’آپ کو ڈیٹنگ ایپ کی ضرورت نہیں، میں ہوں نا‘
    • SpaceX Starship Launch Scrubbed Over Hydraulic Glitchاسپیس ایکس کا سٹار شپ راکٹ تکنیکی خرابی کے باعث لانچ مؤخر
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

انمول یادیں

January 13, 2020 1 1 min read
Municipal Elections
Share this:

Municipal Elections

تحریر : سجاد علی شاکر

راقم مدت بعد قلم پکڑے پرانی ان وادیوں میں کھونے کی کوشش میں تھا کہ یک دم اند ر سے آواز نکلی کیوں نا گذرے ہوئے ان ایام کا تذکرہ اپنے دوستوں سے کیا جائے جن دنوں راقم اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں سے دور رہا ۔ 2015سے اپنے اس آخری کالم کا ذکر کرتا چلوں جس میںراقم اپنی ذاتی ذندگی کے نئے باب کھولنے کی ڈگر پر چل پڑا تھا ۔مجھے آج بھی وہ شام یاد ہے جس دن میری بیگم صاحبہ اپنے میٹھے میٹھے طعنووں سے میری روح کو غذا پہنچا رہی تھی اور راقم نے تنگ آ کر اپنے دوست عرفان سے کاروبار کے متعلق مدد مانگی تھی ۔بتاتا چلوں عرفان میرے گھر میں روزدودھ دیتا ہے اور اسی بنا پر اس سے اچھا تعلق بن چکا تھا ۔عرفان نے مشورہ دیا کہ دونوں بھائی مل کر کاہنہ بازارمیں چائے کا سٹال کھول لیتے ہے۔بات بڑی عجیب سی لگی مگر گھر کے حالات سے تنگ آ کر راقم نے حامی بھر لی۔

اگلے ہی روز راقم عرفان کے ہمراہ غازی روڈباذارسے چائے پکانے کا سارا سامان خرید کر اپنے لئے دھونڈی بازار میں چھوٹی سی دوکان( جسے راقم نے دو ہزار روپے ماہوار میں لے رکھا تھا ) میں رکھااورطے پایا کے کل ہم مل سارے بازار والوں کو اچھی سی چائے بنا کر فری پلا ئے گے۔گھر جا کر عرفان نے کال کی کے سلنڈر تو ابھی ہم نے لیا ہی نہیں راقم کی ذمہ داری لگائی گئی کہ کل وقت مقررہ سے پہلے سلنڈر میں گیس بھرا کر لے آئے ۔ راقم حسب حکم سلنڈر والی دوکان پر اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک سے موبائل کی گھنٹی بجی ۔کال ماموں جا ن کی تھی ارجنٹ حکم صادر کیا گیا کہ اپنے کاغذات لے کر ماڈل ٹاون چلے جائو وہا ں پر آپ کے چھوٹے ماموںامتیاز آپکا انتظار کر رہے ہے اور اپنے کاغذ الیکشن کے لئے جمع کرواں۔راقم چونکا یہ کیسی بات سننے کو ملی الیکشن لڑوں گا اور وہ بھی میں جس کے پا س گھر میں راشن کے لئے بھی بندوبست نہیں تھا مگر دل ہی دل میں خوش بھی تھا کہ میں بھی بڑا آدمی بن جاوں گا سب لوگ مجھے سلام کیا کرے گے فلاں فلاں فلاں۔۔۔۔۔۔راقم گو مگوں کا شکار تھا کہ ایک اور کال کی گھنٹی بجی اب کی بار کا ل پر شوکت قریشی صاحب جو کے سابقہ جنرل کونسلر اور اور ذبردست صلا حیت کے حامل انسان ہے۔

انہوں نے بھی وہی بات کی ۔راقم خیالوں کی دنیامیںغم ہو گیااور اپنے لکھے ہوئے الفاظ یاد کرنے لگا ۔۔۔۔بلدیاتی الیکشن یہ کیسی دلچسپ اور حیرت انگیز بات ہے کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کسی جمہوری حکومت نے ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے، اچھے برے بلدیاتی نظام فوجی ڈکٹیٹروں ہی کے دور میں قائم کیے گئے۔ہمارے ملک میں جمہوریت ابھی تک لولی لنگڑی ہے اور سیاسی مفکرین اس لولی لنگڑی جمہوریت کو آمریت سے بہتر قرار دیتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے جس ملک کے سیاستدان نرسری ہی کو مفلوج کرکے رکھتے ہوں، اس ملک میں جمہوریت کے فروغ کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔

ہمارے ملک میں اگر جمہوریت کو فروغ دینے اور اسے عوامی بنانے کی کوشش کی جاتی تو آج جمہوریت کی وہ شکل نہ ہوتی جس میں عوام کا حصہ صرف 5 سالوں میں ایک بار اشرافیہ کے حق میں ووٹ ڈالنے تک محدود ہے۔پہلی بار شدید عوامی اور میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کروائے جا رہے تھے لیکن یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ منتخب بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات سے محروم کردیا گیا تھا۔ بلدیاتی اداروں کی دنیا بھر میں اہمیت کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ بلدیاتی ادارے عوام کے مقامی اور علاقائی مسائل حل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہوتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں تو سیاستدانوں کی پہلی تربیت بلدیاتی اداروں ہی میں کی جاتی ہے اور قومی سیاست میں داخل ہونے سے پہلے امیدواروں کو بلدیاتی اداروں میں عملی تربیت حاصل کرنا پڑتی ہے۔بدقسمتی سے ہماری سیاست کبھی عوامی نہیں رہی ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری جمہوریت بھی عوامی نہ رہی بلکہ اشرافیائی بن کر رہ گئی۔

بلدیاتی نظام میں بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات حاصل ہوتے ہیں چونکہ اختیارات کی تقسیم اشرافیہ کی فطرت اور مفادات کے خلاف ہوتی ہے۔ اسی لیے حکمران اشرافیہ بلدیاتی اداروں کی مخالف رہتی ہے، اختیارات کی تقسیم کا خوف ہی ہماری اشرافیائی جمہوریت پرکسی اشرافیائی جمہوریت میں نہ بلدیاتی انتخابات کروائے گئے نہ بلدیاتی نظام کو پنپنے دیا گیا۔سال 2013 کے انتخابات کے نتیجے میں جو حکومتیں برسر اقتدار آئیں اگر وہ عوام سے مخلص ہوتیں اور عوامی مسائل حل کرنا چاہتیں تو بلدیاتی اداروں کوکام کرنے کی آزادی دیتیں اور انھیں مالی اور انتظامی اختیارات دیتیں لیکن چونکہ حکمران طبقات نہ عوام سے مخلص ہیں نہ اختیارات کی تقسیم پر آمادہ ہیں اسی لیے بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے اور وہ اربوں روپوں کے فنڈز جو بلدیاتی اداروں کا حق ہیں وہ اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو دے رہی ہیں جو ان بھاری فنڈزکے حقدار نہیں ہیں۔

میڈیا کی خبروں کے مطابق ایم این ایز کو 94 ارب روپوں کے فنڈز دیے گئے ہیں اور ہماری اشرافیائی روایت کے مطابق یہ بھاری فنڈز عوام کے علاقائی مسائل کے حل میں استعمال کرنے کے بجائے خرد برد میں استعمال ہوں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے جب بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات سے محروم کر دیا جائے گا تو پھر بلدیاتی ادارے کس طرح اپنی ذمے داریاں پوری کرسکیں گے؟یہ ساری خرابیاں ہماری اشرافیائی جمہوریت کی پیدا کردہ ہیں جمہوری قیادت، بلدیاتی اداروں کے ذریعے ہی پیدا کی جاتی ہے اور ہماری اشرافیہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے کہ بلدیاتی نظام کو فعال رکھا گیا تو ان اداروں سے سیاسی قیادت ابھرے گی اور یہ قیادت نچلے طبقات پر ہی مشتمل ہوگی اور اشرافیہ سیاست میں نچلے طبقات کی قیادت کو آگے آنے دیتی ہے تو اس کی 70 سالہ اجارہ داری ختم ہوجاتی ہے۔ یہ ہے وہ خوف جو بلدیاتی اداروں کو مفلوج کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
Sajjad Ali Shakir

تحریر : سجاد علی شاکر

Share this:
World War
Previous Post عالمی جنگ نہیں ہو گی
Next Post پیپلز پارٹی نے ہر منصوبے میں کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے، دعا زبیر
Dua Zubair

Related Posts

وائٹ ہاؤس کے قریب گھاس پر پراسرار نمبر “86 47”: تفتیش شروع، ٹرمپ کو خطرہ یا آزادیٔ اظہار؟

June 15, 2026
VivaTech Takes Over Champs-Élysées for 10th Anniversary

ویوا ٹیک کا دسویں سالگرہ کا جشن: شانزے لیزے پر مستقبل کی جھلک، ہیومنائیڈ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کا شو

June 15, 2026
Macron’s Final G7: A Decade of Global Vision Faces Reality

ایوین میں میکرون کا آخری G7: تصوراتی فتوحات اور عملی مایوسیوں کے درمیان عالمی رہنما کا الوداعی پینترا

June 15, 2026
Russian Strikes Hit Kyiv Cathedral, Killing 9 Across Ukraine

یوکرین پر روس کا ہولناک حملہ: تاریخی گرجا گھر شعلوں کی لپیٹ میں، 9 افراد جاں بحق

June 15, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.