مارکیٹ کا جائزہ
کراچی: عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور جنگ کے بعد کے ماحول میں جہاز رانی کے حالات سخت ہونے کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعے کے روز گراوٹ دیکھنے میں آئی۔
بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3,714.57 پوائنٹس یا 2.3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 157,496.1 پوائنٹس پر بند ہوا۔ انڈیکس نے سیشن کے دوران 161,435.83 پوائنٹس کی بلند ترین سطح اور 157,072.64 پوائنٹس کی کم ترین سطح دیکھی۔
تجزیہ کاروں کی رائے
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور جہاز رانی کی رکاوٹوں کے باعث دباؤ کا شکار رہی، جس نے سرمایہ کاروں کے جذبات متاثر کیے۔
میاری سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر نے کہا کہ “سرمایہ کاروں نے آنے والے مالیاتی پالیسی اعلان سے قبل انتظار کا رویہ اپنایا ہوا ہے، جس کی وجہ سے سرگرمیاں محتاط رہیں۔”
اہم اعداد و شمار
- انڈیکس کی بندش: 157,496.1 پوائنٹس
- کل کمی: 3,714.57 پوائنٹس (2.3 فیصد)
- ٹریڈ ویلیو: 23 ارب روپے
- ٹریڈ والیوم: 36 کروڑ شیئرز
مرکزی بینک کی پالیسی کا انتظار
سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کے آنے والے مالیاتی پالیسی فیصلے سے قبل محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ رائٹرز کے ایک جائزے کے مطابق، مرکزی بینک اپنی پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان رکھتا ہے۔
مہنگائی کے خدشات
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں دباؤ مہنگائی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اے کے ڈی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار محمد علیو کا کہنا تھا کہ توانائی کی قیمتیں مہنگائی کے راستے کا تعین کریں گی۔
جے ایس کیپٹل کے سربراہ تحقیق وقاص غنی نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر فی بیرل کا اضافہ مہنگائی میں تقریباً 0.5 فیصد کا اضافہ کرتا ہے۔
پچھلے سیشن کی کارکردگی
گذشتہ سیشن میں جمعرات کے روز کے ایس ای 100 انڈیکس میں 5,433.46 پوائنٹس (3.49 فیصد) کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جو 161,210.68 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
