امریکی فوجی اہلکاروں کا خیال ہے کہ مناب کے اسکول پر حملہ امریکی فوج کی کارروائی تھی
واشنگٹن: امریکی فوجی تحقیقاتی اہلکاروں کا خیال ہے کہ ایران کے ایک اسکول پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بظاہر امریکی فوج پر عائد ہوتی ہے جس میں درجنوں بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم تحقیقات کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔
دو امریکی اہلکاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ ہفتے کے روز ایران کے شہر مناب میں واقع ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے کے بارے میں ابتدائی تشخیص یہی ہے کہ یہ امریکی فوج کی کارروائی تھی۔ اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئی معلومات سامنے آنے پر اس تشخیص میں تبدیلی بھی ممکن ہے۔
امریکی حکام کا ردعمل
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کے روز اس واقعے کی تحقیقات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا، “ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہم کبھی بھی شہری اہداف کو نشانہ نہیں بناتے۔ لیکن ہم اس پر غور اور تحقیقات کر رہے ہیں۔”
وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے ایک بیان میں کہا، “جبکہ محکمہ جنگ اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، ایرانی ریجم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بناتی ہے، نہ کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ۔”
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ امریکہ کبھی بھی جان بوجھ کر کسی اسکول کو نشانہ نہیں بنائے گا۔
بین الاقوامی ردعمل اور جنگ کے قوانین
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے منگل کے روز اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دفتر کے ترجمان راوینا شمڈاسانی نے کہا، “حملہ کرنے والی افواج پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کریں۔”
بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت کسی اسکول، ہسپتال یا دیگر شہری ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکی ملوث ہونے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں امریکی تنازعات کے دوران شہری ہلاکتوں کے بدترین واقعات میں شمار ہوگا۔
مزید تفصیلات
- ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن پر منگل کے روز لڑکیوں کی تدفین کی تصاویر دکھائی گئیں۔
- امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران میں اپنے حملوں کو جغرافیائی طور پر تقسیم کیا ہوا ہے۔
- تحقیقات میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس قسم کے اسلحے کا استعمال کیا گیا یا حملے کی وجہ کیا تھی۔
یہ واقعہ 2 مارچ 2026 کو پیش آیا جس کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور حتمی نتائج کا انتظار ہے۔
